انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 452 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 452

انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۵۲ بعض اہم اور ضروری امور ( ۱۹۴۴ ء ) ایک سکیم کے ماتحت یہاں آئے ہیں اور اس لئے وہ زیادہ مخالفت کریں گے۔پس میں جماعت کے تاجروں کو اپنے اس خطبہ کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔تبلیغ سلسلہ کے لئے اُن کا جلد از جلد منظم ہونا بہت ضروری ہے۔ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا میں ہر جگہ اس وقت مزدوروں اور کارخانہ داروں کے درمیان لڑائیاں جاری ہیں لیکن ہم ایسے رنگ میں اس سکیم کو چلانا چاہتے ہیں کہ ایسے جھگڑے پیدا ہی نہ ہوں اور دونوں ترقی کرنے میں ایک دوسرے کی مدد کر سکیں اور ہم اس کیلئے بہت سی باتیں بتا سکتے ہیں مگر پبلک میں ان کا بیان کرنا مناسب نہیں۔تا جر ا حباب جلد سے جلدا اپنی انجمن بنالیں جس کے سامنے میں یہ باتیں بیان کر دوں گا۔احمدی تاجروں کو چاہئے کہ وہ جلد سے جلد اپنے نام تحریک جدید کے دفتر میں بھجوا د میں اور جس قسم کا تعاون کر سکیں کریں۔ان کا موں کے چلانے کے لئے واقفین کی بھی ضرورت ہے اور نو جوانوں کو چاہئے کہ ان کاموں کے لئے اپنے آپ کو وقف کریں۔۱۸۰ مربعه اراضی گزشتہ سال میں نے اعلان کیا تھا کہ سندھ سے ۱۸۰ مربعہ اراضی آزاد کرائی جا چکی ہے اس سال تک یہ رقبہ تین سو مربعہ یعنی ساڑھے سترہ ہزار ایکڑ کے قریب ہے جو آزاد کرایا جا چکا ہے دو ہزار ایکڑ کے قریب باقی ہے جس میں سے ہزار ڈیڑھ ہزار ایکڑ کے قریب زمین خریدی جا چکی ہے اور باقی کی خرید کے معاہدے ہو چکے ہیں۔جو خریدی جا چکی ہے اُسے قریبی عرصہ میں آزد کرانے کی کوشش کی جائے گی۔پانچ چھ سو ایکڑ تو عنقریب ہی آزاد ہو جائے گی۔اس کے علاوہ کچھ رقبہ ایسا ہے جس کے متعلق خیال ہے کہ وہ خریدنے کے قابل ہی نہیں۔امید ہے کہ ۱۹۴۵ء میں ساری کی ساری زمین جو ہم خریدنا چاہتے ہیں ہم خرید کر آزاد کرا سکیں گے۔تحریک جدید کے دس سالہ دور میں کل قریباً ساڑھے نو ہزارایکڑ اراضی خریدی گئی ہے اس کی قیمت میں ساڑھے تین لاکھ روپیہ قرض لے کر ادا کیا گیا ہے اور باقی تحریک جدید کے چندوں سے۔سندھ میں چونکہ کاشت کرنے والے بہت کم ہیں اس لئے وہاں زمینوں کی قیمتیں پنچاب کی نسبت بہت کم ہیں پھر بھی