انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 329 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 329

انوار العلوم جلد ۱۷ ۳۲۹ غزوہ حنین کے موقع پر صحابہ کرام کا قابل تقلید نمونہ ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ آپ سے سچی محبت رکھنے والے اس صحابی سے سو گنا زیادہ جوش سے بلکہ ہزار گنا زیادہ جوش سے یہ کیوں نہیں کہیں گے کہ يَا رَسُولَ اللَّهِ ! آپ ہمارے اندر موجود نہیں ہیں مگر آپ کی عزت و ناموس پر حملہ کرنے والا آپ تک نہیں پہنچ سکتا۔يَارَسُوْلَ اللهِ! ہم اپنی عزت و ناموس کو قربان کر دیں گے ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور آپ کے بائیں بھی لڑیں گے ، آپ کے آگے بھی لڑیں گے اور آپ کے پیچھے بھی لڑیں گے اور يَا رَسُولَ اللَّهِ! جب تک دشمن ہماری عزت و ناموس کو کچلتا ہوا انہیں گزرے گا آپ کی عزت و ناموس تک وہ نہیں پہنچ سکتا۔اگر ہم میں سے ہر شخص کے دل سے یہ آواز نہیں نکلتی ، اگر ہم میں سے ہر شخص حنین کے غزوہ کی طرح دیوانہ وار لبیک کہتے ہوئے آپ کی طرف نہیں دوڑتا تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس کے اندر ایمان کا ایک شمہ بھی پایا جاتا ہے۔غزوہ حنین کے موقع پر جب اسلامی لشکر میں انتشار پیدا ہو گیا تو رسول کریم ﷺ نے حضرت عباس سے کہا عباس! آواز دو کہ اے انصار ! اے بیعت رضوان میں شامل ہونے والے لوگو! خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے صحابہ کہتے ہیں جب یہ آواز ہمارے کانوں میں پہنچی تو ہماری حالت یہ تھی کہ ہمارے گھوڑے میدانِ جنگ سے بھاگے چلے جارہے تھے۔ہم انہیں روکتے تھے مگر وہ رُکتے نہ تھے، ہم اونٹوں کو موڑتے تھے مگر وہ مڑتے نہ تھے۔جب ہمارے کانوں میں یہ آواز آئی کہ اے انصار ! خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے تو جن کی سواریاں مرسکیں انہوں نے اپنے پورے زور سے سواریاں موڑ لیں اور جن کی سواریاں نہ مریں انہوں نے تلوار میں نکال کر اپنے اونٹوں اور گھوڑں کی گردنیں کاٹ دیں اور لَبَّیک يَا رَسُولَ اللَّهِ لَبَّیک کہتے ہوئے پیدل ہی رسول کریم ﷺ کی طرف دوڑ پڑے کے جب تک ہم یہی نمونہ نہیں دکھاتے جو غزوہ حنین کے موقع پر رسول کریم ﷺ کی آواز کے جواب میں صحابہ کرام نے دکھایا ، جب تک روحانی طور پر اس نظارہ کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے یہی آواز ہماری روح سے نہیں نکلتی کہ لبیک يَارَسُوْلَ اللهِ لَبَّيْكَ ! ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے اپنے ایمان کا کوئی ثبوت پیش کیا ہے۔ہمارا فرض ہے کہ ہم کہیں يَارَسُولَ اللهِ! ہم ان حملوں کے دفاع کیلئے حاضر ہیں اُسی جوش اور اُسی اخلاص کے ساتھ حاضر ہیں جو صحابہ نے دکھایا۔بلکہ ان کے جوش اور اخلاص سے بھی بڑھ کر ہم الله