انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 303 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 303

تعلیم الاسلام کالج کے قیام کی اغراض انوار العلوم جلد ۱۷ پس میری غرض کالج کے قیام سے ایک یہ بھی ہے کہ ہمیں ایک ایسا مرکز مل جائے جس میں ہم بیج کے طور پر ان تمام باتوں کو قائم کر دیں تا کہ آہستہ آہستہ اس پیج کے ذریعہ ایک ایسا درخت قائم ہو جائے ، ایک ایسا نظام قائم ہو جائے ، ایک ایسا ماحول قائم ہو جائے جو اسلام کی مد دکر نے والا ہو، جیسے یورو بین نظام اسلام کے خلاف حملہ کرنے کے لئے دنیا میں قائم ہے۔پس ہمارے کالج کے منتظمین کو مختلف علوم کے پروفیسروں کی ایسی سوسائٹیاں قائم کرنی چاہئیں جن کی غرض یہ ہو کہ اسلام اور احمدیت کے خلاف بڑے بڑے علوم کے ذریعہ جو اعتراضات کئے جاتے ہیں اُن کا دفعیہ انہی علوم کے ذریعہ کریں۔اور اگر وہ دیکھیں کہ موجودہ علوم کی مدد سے ان کا دفعیہ نہیں کیا جا سکتا تو پھر وہ پوانٹ نوٹ کریں کہ کون کون سی ایسی باتیں ہیں جو موجودہ علوم سے حل نہیں ہوتیں اور نہ صرف خود ان پر غور کریں بلکہ کالج کے بالمقابل چونکہ ایک سائنس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ بھی قائم کی گئی ہے اس لئے وہ پوائنٹ نوٹ کر کے اس۔انسٹی ٹیوٹ کو بھجواتے رہیں اور انہیں کہیں کہ تم بھی ان باتوں پر غور کرو اور ہماری مدد کرو کہ کس طرح اسلام کے مطابق ہم ان کی تشریح کر سکتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلام ان باتوں کا محتاج نہیں اسلام وہ مذہب ہے جس کا مدار ایک زندہ خدا پر ہے پس وہ سائنس کی تحقیقات کا محتاج نہیں۔مثلاً وہی پر و فیسر مولر جن کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے جب مجھے ملے تو انہوں نے بتایا کہ وہ اور نیو یارک کے بعض اور پروفیسر بھی تحقیقات کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ اس ساری یو نیورس کا ایک مرکز ہے۔اس مرکز کا انہوں نے نام بھی لیا تھا جو مجھے صحیح طور پر یاد نہیں رہا۔اُنہوں نے بتایا کہ سارے نظامِ عالم کا فلاں مرکز ہے جس کے گرد یہ سورج اور اُس کے علاوہ اور لاکھوں کروڑوں سورج چکر لگا رہے ہیں اور انہوں نے کہا میری تھیوری یہ ہے کہ یہی مرکز خدا ہے۔گویا اس تحقیق کے ذریعہ ہم خدا کے بھی قائل ہیں، یہ نہیں کہ ہم دہریت کی طرف مائل ہو گئے ہوں۔پہلے سائنس خدا تعالیٰ کے وجود کو رڈ کرتی تھی مگر آب ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ اس سارے نظام کا ایک مرکز ہے جو حکومت کر رہا ہے اور وہی مرکز خدا ہے۔میں نے کہا نظام عالم کے ایک مرکز کے متعلق آپ کی جو تحقیق ہے مجھے اس پر اعتراض نہیں قرآن کریم سے بھی ثابت