انوارالعلوم (جلد 17) — Page 249
انوار العلوم جلد ۷ ۲۴۹ اہالیان لدھیانہ سے خطاب کے کنارے پر واقع ہے یہ سڑک بہت چوڑی ہے اور بازار لمبا ہے جس میں کھانے کی دُکانیں بھی ہیں میں اس بازار میں ٹہلتا ہوں اور کوئی شخص مجھے کچھ نہیں کہتا اور نہ کوئی مخالفت کرتا ہے اور میں دل میں کہتا ہوں کہ اس شہر میں تو ہمیں گالیاں ملا کرتی تھیں پھر آج یہ کیا تغیر ہوا ہے کہ کوئی ہمیں کچھ بھی نہیں کہتا۔تو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت جب اُس کے بندوں کو کوئی صدمہ یا تکلیف پہنچنے والی ہوتی ہے تو وہ پہلے سے ہی اُن کے ساتھ دلداری بھی کر دیتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اظہار ہمدردی پر مشتمل خواب مجھے عرصہ ہوا دکھایا جا چکا ہے اور مجھے یقین ہے کہ یہ ضرور پورا ہوکر رہے گا۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جس وقت یہ پیشگوئی فرمائی اُس وقت تک آپ نے بیعت نہ لی تھی اور ایک شخص بھی آپ کا مرید نہ تھا۔چار سال کے بعد آپ نے لدھیانہ میں بیعت لینی شروع کی اور صرف چالیس آدمی آپ کی بیعت میں شامل ہوئے مگر ساری دنیا میں آپ کی مخالفت کا شور بپا ہو گیا۔چاروں طرف سے آپ کو گالیاں دی جانے لگیں اور آپ کو کا فرو دجال کہا گیا، آپ کو واجب القتل قرار دیا گیا، اسلام کا دشمن بتایا گیا اور ہر قوم و مذہب کے لوگ آپ کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے۔عیسائیوں نے کہا کہ یہ شخص ہمارے عیسی کو وفات یافتہ ٹھہراتا ہے اسے مار دینا چاہئے۔ہندوؤں نے شور مچایا کہ یہ ہمارے مذہب کو نقصان پہنچا رہا ہے اسے مار دیا جائے۔گورنمنٹ بھی مخالف تھی قادیان جانے والوں کے نام پولیس نوٹ کرتی تھی۔کوئی احمدی ہوتا تو اُسے بلا کر ڈرایا دھمکایا جا تا تھا اور کوشش کی جاتی تھی کہ لوگ احمدی نہ ہوں۔حتی کہ سر ایبٹس گورنر ہو کر آئے اور اُنہوں نے تمام حالات کا جائزہ لیکر اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کا مطالعہ کرنے کے بعد گورنمنٹ کو یہ رپورٹ کی کہ اس جماعت کے ساتھ یہ سلوک نا مناسب ہے۔یہ بڑی ناشکری کی بات ہے کہ جس شخص نے امن قائم کیا اور جو امن پسند جماعت قائم کر رہا ہے اس پر پولیس چھوڑی گئی ہے۔یہ بڑی احسان فراموشی ہے اور میں اسے مٹا کر چھوڑوں گا۔اِس طرح ۱۹۰۷ ء میں یہ حالت تبدیل ہوئی اور احمدیوں کی نگرانی کا سلسلہ بند ہوا۔پھر مسلمانوں کی طرف سے بھی آپ کی سخت مخالفت کی گئی اور احمدیوں کو بھی انتہائی تکالیف پہنچائی جاتی تھیں حتی کہ قادیان میں جس کا ہمارا خاندان واحد