انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 225 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 225

انوار العلوم جلد کا ۲۲۵ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں تھے اُن کے دلوں میں پھر یہ امید پیدا ہوگئی ہے کہ اسلام دنیا میں پھیل کر رہے گا اور دنیا کا کوئی مذہب اس پر غالب نہیں آ سکتا۔بعض ممالک میں ہمارے مبلغین پر بڑی سختی بھی کی گئی مگر ایک ملک بھی ایسا نہیں جہاں ہمارے مبلغین سے بُرا سلوک کیا گیا ہو اور خدا نے اُسے سزا دیئے بغیر چھوڑا ہو۔پولینڈ میں جب میں نے اپنے مبلغ کو بھیجا اور اُس نے عیسائیت کے مقابلہ میں اسلام کو ترقی دینی شروع کی تو وہاں کی حکومت کو فکر پڑگئی کہ ایسا نہ ہو یہاں کے مسلمان منظم ہو جائیں اور عیسائیت کے لئے ان کا مقابلہ کرنا مشکل ہو جائے۔وہاں صدیوں سے مسلمان رہتے ہیں مگر بالکل کسمپرسی اور بے کسی کی حالت میں۔جب ہمارا مبلغ گیا اور اُس نے تبلیغ کی اور اسلام کی صداقت ثات کرنی شروع کی تو حکومت نے خیال کیا کہ ایسا نہ ہو مسلمان منظم ہو جائیں اور وہ ہمارے خلاف کھڑے ہو جائیں چنانچہ اُس نے راتوں رات ہمارے مبلغ کو پکڑا اور اُسے اپنے ملک سے نکال کر زیکوسلواکیہ کی سرحد پر لا کر چھوڑ دیا۔اُس نے خیال کیا کہ وہ احمدیت کو اس طرح مٹا سکے گی وہ اسلام کو پولینڈ میں پھیلنے سے روک سکے گی مگر خدا نے اُس حکومت سے بدلہ لیا۔ہٹلر نے اس ملک پر فوج کشی کی اور راتوں رات وہاں کی حکومت اپنے ملک کو چھوڑ کر بھاگ کھڑی ہوئی اور اس طرح خدا نے بتا دیا کہ اسلام کا خدا ایک زندہ خدا ہے۔دوسرا ملک جہاں ہمارے مبلغ پرسختی کی گئی البانیہ ہے۔شاہ زوغو کی حکومت نے بھی سختی سے ہمارے مبلغ کا مقابلہ کیا اور اُسے اپنے ملک سے نکال دیا۔مگر پھر وہی بادشاہ جس نے ہمارے مبلغ کو نکالا تھا تاج و تخت سے محروم کر دیا گیا اور اُسے اپنے ملک سے بھاگنا پڑا۔تیسری حکومت جس نے ہمارے مبلغین سے سختی کی افغانستان کی حکومت ہے۔امیر امان اللہ خان نے اعلان کیا کہ ان کے ملک میں تبلیغ کی اجازت ہے بلکہ محمودطرزی صاحب سابق وزیر خارجہ حکومت افغانستان نے ہمیں خود لکھا کہ آپ اپنے مبلغ اس علاقہ میں بھجوا دیں انہیں تبلیغ کی مکمل آزادی ہوگی مگر جب میں نے اپنے مبلغ بھجوائے تو حکومت افغانستان نے ملا نوں کے شور سے مرعوب ہو کر ہمارے چار آدمی یکے بعد دیگرے سنگسار کر دیئے تب خدا نے اس حکومت سے بھی بدلہ لیا اور امان اللہ خان جو افغانستان کے تاج و تخت کا مالک تھا خدا نے اُسے ایسی سزا دی کہ وہ اپنا ملک چھوڑ کر بھا گا اور آج تک جلا وطنی میں اپنی زندگی بسر کر رہا ہے۔