انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 205 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 205

انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۰۵ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں سے پوچھا کہ وہ بچہ ہے کون جس کا آج شیخ رحمت اللہ صاحب ذکر کر رہے تھے۔وہ میری اس بات کوسُن کر ہنس پڑے اور کہنے لگے وہ بچہ تم ہی تو ہو۔غرض میں ان باتوں سے اتنا بے بہرہ تھا کہ مجھے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ میں زیر بحث ہوں اور میرے متعلق یہ کہا جا رہا ہے کہ اس کی وجہ سے جماعت تباہ ہو رہی ہے۔مگر خدا تعالیٰ کی مشیت یہی تھی کہ وہ مجھے دنیا کی مخالفانہ کوششوں کے باوجود آگے کرے اور میرے سپر د جماعت کی نگرانی کا کام کرے۔میں نے امن قائم رکھنے اور جماعت کو تفرقہ سے بچانے کی بڑی کوشش کی مگر خدا تعالیٰ کے ارادہ کو کون روک سکتا ہے۔آخر وہی ہوا جو اُس کا منشاء تھا۔جوں جوں حضرت خلیفہ اول کی وفات نزدیک آتی گئی ان لوگوں نے جماعت میں کثرت کے ساتھ پراپیگینڈا شروع کر دیا کہ آئندہ خلافت کا سلسلہ جاری نہیں ہونا چاہئے۔جس دن حضرت خلیفہ اول فوت ہوئے دنیا نے کہا اب یہ سلسلہ ختم ہو گیا کیونکہ جس شخص پر اس سلسلہ کا تمام انحصار تھا وہ اُٹھ گیا۔اُس دن جب مخالفوں کی زبان پر یہ تھا کہ یہ سلسلہ ختم ہو گیا۔میں نے جماعت کو تفرقہ سے بچانے کے لئے مولوی محمد علی صاحب سے گفتگو کی اور میں نے اُن سے کہا کہ آپ کسی شخص کو خلیفہ مقرر کریں میں اُس کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے لئے تیار ہوں۔میں نے اُن سے یہ بھی کہا کہ جب میں بیعت کرلوں گا تو وہ لوگ جو میرے ساتھی ہیں وہ بھی میرے ساتھ ہی خود بخود بیعت کر لیں گے اور اس طرح تفرقہ پیدا نہیں ہوگا۔مگر باوجود میری تمام کوششوں کے آخری جواب مولوی محمد علی صاحب نے یہ دیا کہ آپ جانتے ہیں جماعت والے کس کو خلیفہ مقرر کریں گے اور یہ کہہ کر وہاں سے چلے آئے۔حالانکہ میری نیک نیتی اس سے ظاہر ہے کہ جس دن عصر کی نماز کے وقت لوگوں نے میری بیعت کی اُسی دن صبح کے وقت میں نے اپنے تمام رشتہ داروں کو جمع کیا اور اُن سے کہا کہ ہمیں ضد نہیں کرنی چاہئے اگر وہ خلافت کو تسلیم کر لیں تو کسی ایسے آدمی پر اتفاق کر لیا جائے جو دونوں فریق کے نزدیک بے تعلق ہو اور اگر وہ یہ بھی قبول نہ کریں تو پھر ان لوگوں میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لی جائے اور میرے اصرار پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تمام اہلِ بیت نے اس امر کو تسلیم کر لیا۔پھر میری یہ حالت تھی کہ حضرت خلیفہ اول کی وفات سے چند دن پہلے میں اُس مقام پر گیا جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام دعا کیا کرتے تھے اور میں نے وضو کر کے اللہ تعالیٰ سے