انوارالعلوم (جلد 17) — Page 179
انوار العلوم جلد ۷ ۱۷۹ مزار حضرت مسیح موعود پر دعا اور اس کی حکمت بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مزار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر دعا اور اُس کی حکمت ( تقریر فرموده ۱۹ مارچ ۱۹۴۴ ء بعد نماز عصر بمقام بہشتی مقبره قادیان) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فر مایا:۔گل میں نے دوستوں کو بتایا تھا کہ یہاں آ کر جو دعا ہمیں مانگنی چاہئے وہ قرآن شریف کی ہی ایک دعا ہے اور رسول کریم ﷺ ہمیشہ وہ دعا پڑھا کرتے تھے۔ہمارا اصل مقصد یہی ہے کہ وہ دعا یہاں آ کر بار بار مانگی جائے اور خدا تعالیٰ کے سامنے اُس کے وعدے پیش کر کے اور اپنی کمزوریوں کو سامنے رکھ کر عاجزی اور تضرع سے اُس کو پکارا جائے تاکہ اللہ تعالیٰ کی غیرت بھڑ کے اور اُس کا فضل ہم پر نازل ہو۔بعض دوستوں نے توجہ دلائی ہے کہ ایسی باتوں سے بعض لوگ مشر کا نہ رنگ اختیار کر لیتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ قبروں پر جانا اور وہاں دعا کرنا شاید اس لئے ہے کہ قبر والے سے دعا مانگی جاتی ہے۔میں امید تو نہیں کرتا کہ کسی احمدی کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہو کیونکہ ہم اللہ تعالیٰ کے بندوں کو بندہ ہی سمجھتے ہیں خواہ وہ محمد رسول اللہ ﷺ ہی کیوں نہ ہوں اور ہم اُن سے بھی دعا ئیں نہیں مانگتے بلکہ کبھی ہمارے واہمہ اور خیال میں بھی یہ نہیں آیا کہ اگر ہم دعا مانگیں تو وہ اسے قبول کر سکتے ہیں بلکہ حدیث میں جو آتا ہے کہ مُردے نعلین کی آواز سُن لیتے ہیں لے میں فطرتا الله