انوارالعلوم (جلد 17) — Page xx
انوار العلوم جلد ۱۷ ۱۳ تعارف کتب مصلح موعود کی وضاحت فرمائی اور اس پیشگوئی کے پورا ہونے کے عقلی و نقلی دلائل پیش فرمائے۔اس کے بعد حضور نے اہل لدھیانہ کی اس جلسہ کے سلسلہ میں مخالفت کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ایک نشان قرار دیا اور اہل لدھیانہ کی مخالفت کو اللہ تعالیٰ کے قانون اور انبیاء کی سنت کے مطابق قرار دیا۔اس کے بعد آپ اہل لدھیانہ سے مخاطب ہوئے اور فرمایا کہ:۔”اے لدھیانہ کے لوگو! تم نے میری مخالفت کی اور میں تمہارے لئے دعا کرتا ہوں۔تم نے میری موت کی خواہش کی مگر میں تمہاری زندگی کا خواہاں ہوں کیونکہ میرے سامنے میرے آقا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال ہے۔آپ جب طائف میں تبلیغ کے لئے گئے تو شہر کے لوگوں نے آپ کو پتھر مارے اور لہولہان کر کے شہر سے نکال دیا۔آپ زخمی ہو کر واپس آ رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتہ آپ کے پاس آیا اور اُس نے کہا اگر آپ فرما ئیں تو اس شہر کو اُلٹا کر رکھ دوں۔مگر میرے آقا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ماں باپ، میری جان ، میرے جسم اور میری روح کا ذرہ ذرہ آپ پر قربان ہو، فرمایا کہ نہیں ایسا نہیں ہونا چاہئے۔یہ لوگ ناواقف تھے ، نادان تھے اسلئے انہوں نے مجھے تکلیف دی اگر یہ لوگ تباہ کر دیئے گئے تو ایمان کون لائے گا۔سواے اہلِ لدھیانہ ! جنہوں نے میری موت کی تمنا کی میں تمہارے لئے زندگی کا پیغام لایا ہوں ، ابدی زندگی اور دائی زندگی کا پیغام۔ایسی ابدی زندگی کا پیغام جس کے بعد فنا نہیں اور کوئی موت نہیں۔میں تمہارے لئے خدا تعالیٰ کی رضا کا پیغام لایا ہوں جسے حاصل کرنے کے بعد انسان کے لئے کوئی دُکھ نہیں رہتا اور مجھے یقین ہے کہ آج کی مخالفت کل دلوں کو ضرور کھولے گی اور دنیا دیکھے گی کہ یہ شہر اِنشَاءَ اللہ خدا تعالیٰ کے نور سے منور ہوگا۔اس کے بعد حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور سلسلہ احمدیہ کی مخالفت پر مبنی گزشتہ حالات و واقعات پر تفصیل سے روشنی ڈال کر ثابت فرمایا کہ یہ مخالفت ہمارے سلسلہ کی راہ میں روک نہیں بن سکتی بلکہ ہر مخالفت کے بعد ترقیات کا ایک نیاد دور شروع ہو جاتا ہے۔حضورانور نے اس تعلق میں اپنی ایک لمبی خواب بھی سنائی اور پھر اُس کی روشنی میں اہل لدھیانہ کو بعض نصائح فرمائیں۔