انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 165

انوار العلوم جلد کا ۱۶۵ دعوی مصلح موعود کے متعلق پر شوکت اعلان جسے خدا نے رحمت کا نشان قرار دیا ہے جسے فضل اور احسان کا نشان قرار دیا ہے پس اپنے وعدہ کے مطابق خدا اس نشان کو لوگوں کے لئے رحمت اور فضل کا ہی موجب رکھے گا جب تک وہ اُس کی رحمت اور فضل کے نشان کو رڈ کر کے عالم کباب ہونے والے نشان کا مطالبہ نہ کریں مگر یہ سب کچھ آپ لوگوں کے اختیار میں ہے۔آپ کے اختیار میں ہے کہ اگر چاہیں تو اُس کے رحمت اور فضل کے نشان کو اپنی ذات میں دیکھیں اور اگر چاہیں تو اس کے عالم کباب ہونے والے نشان کا اپنی ذات میں مشاہدہ کریں۔خدا تعالیٰ کے مامور جو دنیا کی ہدایت کے لئے آیا کرتے ہیں اُن کے ایک ہاتھ میں تریاق کا پیالہ ہوتا ہے اور اُن کے دوسرے ہاتھ میں زہر کا پیالہ ہوتا ہے اور لوگوں کا اختیار ہوتا ہے کہ وہ اگر چاہیں تو زہر کا پیالہ پی لیں اور اگر چاہیں تو تریاق کا پیالہ پی لیں۔پس اپنے عمل سے آپ لوگوں نے رحمت کا نشان دیکھنا ہے اور اپنے عمل سے آپ لوگوں نے اُس کے عالم کباب ہونے والے نشان کا مشاہدہ کرنا ہے۔خدا کے پاس دونوں چیزیں موجود ہیں۔اس کے پاس موت بھی ہے اور اُس کے پاس حیات بھی ہے مگر کیسا بد بخت ہے وہ انسان جوحی و قیوم خدا سے موت مانگنے کے لئے تو تیار ہو جاتا ہے مگر زندگی مانگنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔کتنے ہی لوگ ہیں جو نبیوں سے کہا کرتے ہیں ہمیں کوئی ایسا نشان دکھاؤ جس کے نتیجہ میں اگر ہم جھوٹے ہیں تو ہلاک ہو جائیں۔ان بدبختوں کو یہ کبھی خیال نہیں آتا کہ وہ ہلاکت اور بربادی کا نشان طلب کرنے کی بجائے ہدایت اور رحمت کا نشان کیوں طلب نہیں کرتے حالانکہ رحمت بھی اُس کے نشانوں میں سے ایک نشان ہے جس طرح ہلاکت اُس کے نشانوں میں سے ایک نشان ہے۔پس اگر دنیا اللہ تعالیٰ کے اس عظیم الشان نشانِ رحمت سے فائدہ اٹھانا چاہے تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے نشانات اُسے دکھا دے گا اور اگر وہ ہلاکت اور بربادی کا نشان دیکھنا چاہے تو اُسے یا د رکھنا چاہئے کہ جس خدا کے پاس حیات ہے اُس خدا کے پاس ہلاکت بھی ہے جب آسمان پر دنیا کی ہلاکت اور بربادی کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے تو نہ بادشاہ اُس ہلاکت کو روک سکتے ہیں نہ پارلیمنٹیں اُس ہلاکت کو روک سکتی ہیں ، نہ تنظیمیں اُس ہلاکت سے بچ سکتی ہیں نہ جمعیتیں اُس ہلاکت سے محفوظ رہ سکتی ہیں۔جب آسمان سے عذاب نازل ہوتا ہے اُس وقت بڑے سے بڑے بادشاہ اُس عذاب کا شکار ہو جاتے ہیں اور