انوارالعلوم (جلد 17) — Page 150
۱۵۰ انوار العلوم جلد ۱۷ دعوی مصلح موعود کے متعلق پر شوکت اعلان دیئے گئے ہیں غرض دنیا کی کوئی قوم ایسی نہیں جو آج سلسلہ احمدیہ سے واقف نہ ہو، دنیا کی کوئی قوم ایسی نہیں جو یہ محسوس نہ کرتی ہو کہ احمدیت ایک بڑھتا ہوا سیلاب ہے جو ان کے ملکوں کی طرف آ رہا ہے۔حکومتیں اس کے اثر کو محسوس کر رہی ہیں بلکہ بعض حکومتیں اس کو دبانے کی بھی کوشش کرتی ہیں۔چنانچہ روس میں جب ہمارا مبلغ گیا تو اُسے سخت تکلیفیں دی گئیں۔اُسے مارا بھی گیا، پیٹا گیا اور ایک لمبے عرصہ تک قید رکھا گیا لیکن چونکہ خدا کا وعدہ تھا کہ وہ اس سلسلہ کو پھیلائے گا اور میرے ذریعہ اس کو دنیا کے کناروں تک شہرت دے گا اس لئے اُس نے اپنے فضل وکرم سے ان تمام مقامات میں احمدیت کو پہنچایا بلکہ بعض مقامات پر بڑی بڑی جماعتیں قائم کر دیں۔بہر حال جب اس قسم کی علامتیں ظاہر ہوئیں تو جماعت نے کہا کہ وہ پیشگوئی جس کی خبر شیخ مہر علی صاحب کے طویلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دی گئی تھی وہ پوری ہوگئی مگر میں نے ہمیشہ اس کو قبول کرنے سے احتراز کیا اور میں نے یہ کبھی دعوی نہ کیا کہ میں اس پیشگوئی کا مصداق ہوں۔میں نے اپنے دل میں کہا جو خدا کا کلام ہے جب تک خدا اس کے متعلق یہ تصدیق نہ کرے کہ یہ میرے ذریعہ سے پورا ہو چکا ہے اُس وقت تک بولنا میرے لئے مناسب نہیں ہے۔مجھے کیا خبر ہے کہ میں اس پیشگوئی کا مصداق ہوں یا نہیں ہوں ؟ اگر میں اس پیشگوئی کا مصداق نہیں ہوں تو کیوں میں ایک غلط بات کہوں اور اگر میں اس کا مصداق ہوں تو جس خدا نے یہ پیشگوئی فرمائی ہے اُس کا یہ کام ہے کہ وہ مجھے خبر دے کہ میں اس کا مصداق ہوں۔پس گو جماعت نے متواتر اصرار کیا کہ میں اس پیشگوئی کا اپنے آپ کو مصداق قرار دوں مگر میں نے کبھی اس پیشگوئی کا اپنے آپ کو مصداق قرار نہ دیا اور جب بھی یہ پیشگوئی میرے سامنے آتی میں اس پر سے خاموشی کے ساتھ گزر جا تا۔اس عرصہ میں دشمن نے پہیلنج بھی کئے کہ اگر یہ شخص اس پیشگوئی کا مصداق ہے تو بولتا کیوں نہیں۔مگر میں نے ہمیشہ یہی سمجھا کہ خدا پر تقدم تقویٰ کے خلاف ہے۔پس میں خاموش رہا اور باوجود جماعت کے اصرار اور دشمنوں کے چیلنج کے میں نے کبھی اس کے متعلق کچھ نہیں کہا۔یہاں تک کہ تمہیں سال کا لمبا عرصہ اس پر گزر گیا اور یہ مضمون قریباً ٹھنڈا ہو گیا۔دوستوں نے زور لگایا کہ میں اس پیشگوئی کے مصداق ہونے کا اعلان کروں مگر میں خاموش رہا۔دشمنوں نے کہا کہ اگر یہ اس پیشگوئی کا مصداق ہے تو بولتا کیوں نہیں؟ مگر میں نہ بولا۔