انوارالعلوم (جلد 17) — Page 102
انوار العلوم جلد ۷ ۱۰۲ آپ کا دنیا پر آخرت کو تر جیح دینا اس طرح آپ کو خدا تعالیٰ سے جو حبت تھی وہ ایک اور واقعہ سے بھی ظاہر ہے۔دنیا میں موت آتی ہے تو لوگ اُس سے بچنے کی ہزاروں تدبیر میں کرتے ہیں۔مگر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری ایام آئے تو ایک دن آپ تقریر کے لئے کھڑے ہوئے اور صحابہ سے مخاطب ہو کر فرمایا اے لوگو! اللہ تعالیٰ کا ایک بندہ ہے، اُس کو اُس کے خدا نے مخاطب کیا اور کہا اے میرے بندے! میں تجھے اختیار دیتا ہوں کہ چاہے تو دنیا میں رہ اور چاہے تو میرے پاس آجا۔اس پر اُس بندے نے خدا کے قرب کو پسند کیا۔جب رسول کریم ﷺ نے یہ فرمایا تو حضرت ابوبکر رو پڑے۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں مجھے اُن کا رونا دیکھ کر سخت غصہ آیا کہ رسول کریم ﷺ تو کسی بندے کا واقعہ بیان فرما رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اُسے اختیار دیا کہ وہ چاہے تو دنیا میں رہے اور چاہے تو خدا تعالیٰ کے پاس چلا جائے اور اُس نے خدا تعالیٰ کے قرب کو پسند کیا ، یہ بڑھا کیوں رو رہا ہے؟ مگر حضرت ابو بکر کی اتنی ہچکی بندھی ، اتنی ہچکی بندھی کہ وہ کسی طرح رُکنے میں ہی نہیں آتی تھی۔آخر آپ نے فرمایا ابوبکر سے مجھے اتنی محبت ہے کہ اگر خدا کے سوا کسی کو خلیل بنانا جائز ہوتا تو میں ابو بکر کو بناتا۔۳۶ے حضرت عمرؓ فرماتے ہیں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دنوں کے بعد وفات پاگئے تو اُس وقت ہم نے سمجھا کہ ابو بکر کا رونا سچا تھا اور ہمارا غصہ بیوقوفی کی علامت تھا۔۳۷ے جذ بہ شکر کی فراوانی پھر بعض چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں مگر وہ اس طرح دل کی گہرائیوں سے نکلتی ہیں کہ جو شخص اُن باتوں کو دیکھتا یا سنتا ہے وہ اُن چھوٹی چھوٹی باتوں سے بھی خدا تعالیٰ کی محبت کا نظارہ کئے بغیر نہیں رہتا۔حدیثوں میں آتا ہے بعض دفعہ بادل آتے اور اُس کے موٹے موٹے قطرے گرتے تو آپ کمرہ سے باہر تشریف لاتے اپنی زبان باہر نکالتے اور اُس پر بارش کے اُن قطرات کو لیتے اور فرماتے میرے رب کی طرف سے اُس کی رحمت کا یہ تازہ قطرہ آیا ہے۔۳۸ اب یہ بظا ہر کتنی چھوٹی سی بات ہے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے ہر تازہ انعام سے خواہ وہ کتنا ہی قلیل کیوں نہ ہو لذت اندوز ہوتے تھے اور اُسے اپنی زندگی کا ذریعہ سمجھتے تھے۔