انوارالعلوم (جلد 17) — Page 647
۱۲۵ ۱۲۷ ۱۳۸ ۱۲۹ ۱۲۹ میدانِ جنگ سے پیٹھ نہیں بڑا لشکر مکہ کے پاس پڑا موڑا کرتے خدا لعنت کرے یہود اور 99 ہے جو تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم میری اس نصاری پر کہ انہوں نے بات کو تسلیم کر لو گے؟ اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا نے ڈھولک کے ساتھ کوئی گیت گانا شروع کر دیا۔اوپر سے حضرت ابوبکر ۱۱۹ آگئے۔مسجد میں خدا تعالیٰ کی عبادت قیس ایا تو تمہیں میرے ساتھ ۱۰۰ کے لئے ہی ہوتی ہیں ۱۲۳ گھوڑے پر سوار ہونا پڑے گا خدا کی قسم ! اگر یہ لوگ سورج ایک دفعہ ایک بدوی آیا اور اور یا پھر واپس چلے جاؤ۔کو میرے دائیں اور چاند مسجد میں پیشاب کرنے لگ مجھ سے یہ برداشت نہیں کو میرے بائیں بھی لاکر گیا۔صحابہ ونڈے لے کر ہوسکتا کہ میں گھوڑے پر کھڑا کر دیں تب بھی میں اُٹھے تو رسول کریم علی ایک خدا کے ذکر سے باز نہیں آؤں گا نے فرمایا اسے کچھ نہ کہو، ۱۰۶ اس کا پیشاب رک ابوبکر سے مجھے اتنی محبت ہے جائے گا سوار رہوں اور تم پیدل ساتھ چلو آپ کا فرمانا کہ سب قیدیوں ۱۲۴ کی رسیاں ڈھیلی کر دو اور یا کہ اگر خدا کے سوا کسی کو خلیل ایک دفعہ صدقہ کی کچھ کھجور میں پھر عباس کی رسیاں بھی بنانا جائز ہوتا تو میں ابوبکر کو بناتا آئیں۔حضرت حسن اور سخت کر دو ۱۰۷ حضرت حسین نے آتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرما نا بعض دفعہ بادل کے موٹے ایک کھجور اپنے منہ میں ڈال کہ مجھے دوسروں سے قرآن موٹے قطرے گرتے تو لی۔رسول کریم ﷺ نے سننے میں مزا آتا ہے حضوری کمرہ سے باہر دیکھا تو فوراً حضرت حسن ایک دفعہ حضرت عبداللہ تشریف لاتے اپنی زبان کے منہ سے کھجور نکال لی ۱۱۲، ۱۲۵ بن مسعود آپ کے پاس باہر نکالتے اور اُس پر بارش ایک دفعہ آپ گھر میں بیٹھے آئے۔آپ نے اُن سے کے اُن قطرات کو لیتے۔۔۱۰۷ ہوئے تھے کہ حضرت فرمایا عبداللہ ! کچھ قرآن اے میری قوم کے لوگو! اگر عائشہ کے پاس مدینہ کی شریف پڑھ کر سنا ؤ میں تم سے یہ کہوں کہ ایک دولڑ کیاں آئیں اور انہوں رسول کریم ﷺ نے