انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 34

انوار العلوم جلد ۷ ۳۴ بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۳) ہے۔تو اُس وقت گورنمنٹ انگریزی نے بھی احرار کی فتنہ انگیزی سے متأثر ہو کر ہمارے خلاف ہتھیار اُٹھالئے اور یہاں کئی بڑے بڑے افسر بھیج کر اور احمدیوں کو رستے چلنے سے روک کر احرار کا جلسہ کرایا گیا۔چونکہ احرار کا دعویٰ تھا کہ ہم قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے اس لئے ہمیں اپنے مقامات مقدسہ کی حفاظت کیلئے قدرتی طور پر کارروائی کرنی پڑی۔اُس وقت ناظر امور عامہ نے اردگرد کی احمدی جماعتوں کو لکھا کہ قادیان آجائیں۔گورنمنٹ نے ایک طرف تو احرار کو اجازت دے دی کہ سارے ہندوستان سے جماعت احمدیہ کے خلاف لوگوں کو جمع کر لیں اور دوسری طرف امور عامہ کی اتنی سی اطلاع کے متعلق سی آئی ڈی کے سپر نٹنڈنٹ کو بھیجا کہ جا کر تحقیقات کرو اور روکو کہ باہر سے لوگوں کو بُلانے کی احمدی تحریک نہ کریں۔میرے پاس سپرنٹنڈنٹ صاحب آئے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ میں اس کام کے لئے آیا ہوں۔میں نے کہا ہمیں تو اپنے مقامات مقدسہ کی حفاظت چاہئے اگر اس بارے میں یقین دلا دیا جائے تو میں لوگوں کو یہاں آنے سے روک دوں گا۔اُنہوں نے مجھے بعض تجاویز بتائیں کہ اگر یہ یہ انتظام ہو جائے تو آپ کا اطمینان ہو جائے گا۔میں نے کہا ہاں۔انہوں نے یقین دلایا کہ ایسا ضرور ہو جائے گا آپ لوگوں کو آنے سے روک دیں۔چنانچہ امور عامہ نے روک دیا کہ اس موقع پر کوئی احمدی نہ آئے اور فوراً اس قسم کی چٹھی بھجوا دی گئی۔لیکن گورنمنٹ تو بھری بیٹھی تھی رات کے بارہ بجے بٹالہ کے مجسٹریٹ صاحب نے آکر مکان کا دروازہ کھٹکھٹایا اور جب میں نے پتہ کرایا تو یہ بتایا گیا کہ کریمینل ایمنڈ منٹ لاء کے ماتحت یہ حکم دیا جاتا ہے کہ آپ نے جماعت کے جن لوگوں کو باہر سے بُلایا ہے اُن کو فوراً روک دیں ورنہ آپ کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔حالانکہ اس سے پہلے روک دیا گیا تھا اور بلانے کا میں نے حکم نہیں دیا تھا۔میں نے مجسٹریٹ کو لکھ دیا کہ یہ ظالمانہ حکم ہے اور اس طرح میری ہتک کی گئی ہے۔مجسٹریٹ صاحب سمجھے یہ موقع اس کو ممنون کرنے کا ہے۔کہنے لگے آپ نے یہ کیا لکھ دیا ہے سوچ لیں۔میں نے کہا تم کو اس سے کیا تم گورنمنٹ کی چٹھی لائے ہو اب اس کا جواب لے جاؤ۔پھر ہم چھ ماہ تک گورنمنٹ سے پوچھتے رہے کہ یہ حکم کس بناء پر جاری کیا گیا تھا مگر کوئی جواب نہ دیا گیا۔آخر حکومت پنجاب کے چیف سیکرٹری نے کہا کہ ہم کافی ذلیل ہو چکے ہیں آپ