انوارالعلوم (جلد 17) — Page 582
انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۸۲ الموعود لوگ مشرکوں میں سے مسلمان کئے اور ہزاروں لوگ عیسائیت میں سے کھینچ کر اسلام کی طرف لے آئے۔اس کا عیسائیوں پر اس قدر اثر ہے کہ انگلستان میں پادریوں کی ایک بہت بڑی انجمن ہے جو شاہی اختیارات رکھتی ہے اور گورنمنٹ کی طرف سے عیسائیت کی تبلیغ اور اس کی نگرانی کے لئے مقرر ہے۔اُس نے ایک کمیشن اس غرض کے لئے مقرر کیا تھا کہ وہ اس امر کے متعلق رپورٹ کرے کہ مغربی افریقہ میں عیسائیت کی ترقی کیوں رُک گئی ہے۔اُس کمیشن نے اپنی انجمن کے سامنے جو رپورٹ پیش کی اُس میں درجن سے زیادہ جگہ احمدیت کا ذکر آتا ہے اور لکھا ہے کہ اس جماعت نے عیسائیت کی ترقی کو روک دیا ہے۔غرض مغربی افریقہ اور امریکہ دونوں ملکوں میں حبشی قو میں کثرت سے اسلام لا رہی ہیں۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان قوموں میں تبلیغ کا موقع عطا فرما کر مجھے اِن اسیروں کا رستگار بنایا اور ان کی زندگی کا معیار بلند کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔پھر اسیروں کی رستگاری کے لحاظ سے کشمیر کا واقعہ آزادی کشمیر کے لئے جد و جہد بھی اس پیشگوئی کی صداقت کا ایک زبر دست ثبوت ہے اور ہر شخص جو ان واقعات پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرے، یہ تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ سے ہی کشمیریوں کی رستگاری کے سامان پیدا کئے اور ان کے دشمنوں کو شکست دی۔کشمیر کی قوم اس طرح غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھی کہ گورنمنٹ کا یہ فیصلہ تھا کہ زمین اُن کی نہیں بلکہ راجہ صاحب کی ہے گویا سارا ملک ایک مزارع کی حیثیت رکھتا تھا اور راجہ صاحب کا اختیار تھا کہ جب جی چاہا اُن کو نکال دیا۔انہیں نہ درخت کاٹنے کی اجازت تھی اور نہ زمین سے کسی اور رنگ میں فائدہ حاصل کرنے کی۔بے گار کا یہ حال تھا کہ 1909ء میں میں کشمیر گیا تو ایک مقام سے چلتے وقت میں نے تحصیلدار سے کہا کہ ہمارے لئے کسی مزدور کا انتظام کر دیا جائے۔اُس نے رستہ میں سے ایک شخص کو پکڑ کر ہمارے پاس بھیج دیا کہ اس کے سر پر اسباب رکھوا دیں ہم نے اُسے سامان دے دیا مگر ہم نے دیکھا کہ وہ راستہ میں بار بار ہائے ہائے کرتا تھا۔آخر ایک جگہ پہنچ کر اُس نے تھک کر ٹرنک نیچے رکھ دیا۔میں نے اُس کی یہ حالت دیکھی تو مجھے بڑا تعجب ہوا اور میں نے اُس سے کہا کہ کشمیری تو بہت بوجھ اُٹھانے