انوارالعلوم (جلد 17) — Page 493
انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۹۳ الموعود دوم حافظ شیخ حامد علی صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بہت پرانے خادموں میں سے تھے اور لمبے عرصے تک آپ کی خدمت کرتے رہے ہیں۔دوم فتح خاں صاحب جو رسول پور متصل ٹانڈہ ضلع ہوشیار پور کے ایک زمیندار دوست تھے۔آپ نے جانے سے پہلے شیخ مہر علی صاحب رئیس ہوشیار پور کو جو آپ کے واقفوں اور دوستوں میں سے تھے ایک خط لکھا کہ میں وہاں دو ماہ کے لئے آنا چاہتا ہوں آپ میرے لئے کسی مکان کا انتظام کریں جہاں ٹھہر کر میں علیحدگی میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کر سکوں۔آپ نے یہ بھی لکھا کہ میں نہیں چاہتا ان ایام میں لوگ مجھ سے ملنے کے لئے آئیں۔میں صرف اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرنا چاہتا ہوں اس لئے مکان ایسا ہو جو شہر کے ایک طرف ہو اور اُس میں بالا خانہ بھی ہو تا کہ دعا اور توجہ الی اللہ میں کوئی نقص واقع نہ ہو۔چنانچہ انہوں نے اپنا ایک خاندانی مکان جو کسی وقت طویلے کے طور پر کام آتا تھا اور اسی نام سے مشہور تھا آپ کے لئے خالی کرا - دیا اور لکھا کہ میں نے آپ کے لئے ایک مکان کا انتظام کر دیا ہے جو شہر سے باہر ہے لیکن اتنی دور بھی نہیں کہ شہر سے چیزیں لانے میں تکلیف محسوس ہو آپ جب چاہیں تشریف لے آئیں۔اس اطلاع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ۲۱ جنوری ۱۸۸۶ء کو روانہ ہوئے اور راستہ میں ایک رات رسول پور ٹھہرتے ہوئے ۲۲ / جنوری جمعہ کے دن وہاں پہنچ گئے۔جاتے ہی آپ نے شیخ مہر علی صاحب کے طویلہ کے بالا خانہ میں قیام فرمایا اور پھر اُن تینوں دوستوں کو جو آپ کے ساتھ تھے الگ الگ ڈیوٹیوں پر مقرر فرما دیا۔مولوی عبداللہ صاحب سنوری کے سپر دکھانا پکانے کا کام ہوا۔فتح خان صاحب کی یہ ڈیوٹی لگائی گئی کہ وہ بازار سے سو دا وغیرہ لایا کریں اور حافظ شیخ حامد علی صاحب کا یہ کام مقرر کیا گیا کہ وہ گھر کا بالائی کام اور آنے جانے والوں کی مہمان نوازی کریں۔آپ نے یہ بھی حکم دے دیا کہ ڈیوڑھی کے اندر کی زنجیر ہر وقت لگی رہے اور گھر میں سے بھی کوئی شخص مجھے نہ بلائے نہ اوپر بالا خانہ میں کوئی میرے پاس آئے۔میرا کھانا بھی او پر پہنچا دیا جائے مگر اس بات کا انتظار نہ کیا جائے کہ میں نے کھانا کھا لیا ہے یا نہیں بلکہ کھانا رکھ کر فوراً کھانا لانے والا واپس چلا جائے اور خالی برتن دوسرے وقت لے جایا کرے کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ ان ایام میں کسی اور کام کی طرف توجہ کروں۔چنانچہ چالیس دن آپ نے اس