انوارالعلوم (جلد 17) — Page 454
۴۵۴ بعض اہم اور ضروری امور ( ۱۹۴۴ ء ) انوار العلوم جلد ۱۷ بھجوایا جا سکے۔پھر وہاں مینیجروں کی بھی ضرورت ہے اس کے لئے دو گریجوایٹوں نے زندگیاں وقف کی ہیں۔ان میں سے ایک کو ہم ایم ایس سی کی دوسرے کو بی ایس سی کی تعلیم دلا رہے ہیں۔اور بھی ایسے نو جوان جو بی اے یا بی ایس سی ہوں اور جنہیں زمیندارہ کام کا تجربہ ہوا گر اپنے نام پیش کریں تو بہت اچھا ہے۔ایک اور خطرہ جو ہمارے دفتری کاموں کے سلسلہ میں ہے میں اُس کا ذکر دفتری نظام بھی کر دینا مناسب سمجھتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ موجودہ ناظر جب سے مقرر ہوئے ہیں وہی کام کر رہے ہیں ان کا کوئی قائم مقام تیار نہیں ہوا۔یہی چند ایک لوگ ہیں جو بیس بیس سال سے زائد عرصہ سے کام کر رہے ہیں اور آگے ہمارے پاس کوئی ایسے آدمی نہیں ہیں جو ان کی جگہ لے سکیں۔میں نے مجلس مشاورت کے موقع پر یہ اعلان کیا تھا کہ میں تحریک جدید کے واقفین میں سے ایسے آدمی دوں گا جنہیں ایسے رنگ سے ٹریننگ دی جائے کہ وہ آئندہ جا کر نظارتوں کا کام کر سکیں۔چنانچہ میں نے واقفین میں سے چھ نو جوان صدر انجمن احمد یہ کو دیئے ہیں کہ انہیں مختلف محکموں میں ٹریننگ دی جائے تا جب کسی ناظر کی کوئی جگہ خالی ہو تو وہ کام کو سنبھال سکیں۔یہ نو جو ان واقفین میں سے دیئے گئے ہیں۔ہم ان کو صرف گزارہ دیں گے جو صدر انجمن احمد یہ تحریک جدید کو ادا کر دیا کرے گی۔ان کو ترقیات اور گریڈ وغیرہ کوئی نہیں دیئے جائیں گے کیونکہ وہ واقف ہیں۔تبلیغ کے کام کو وسعت دینے کے لئے اس سال کراچی، بمبئی اور کلکتہ میں باقاعدہ مشن کھول دیئے گئے ہیں۔میری عرصہ سے یہ خواہش تھی کہ ان مقامات پر مشن کھولے جائیں جو ہندوستان۔۔۔۔مگر افسوس کہ اب تک اس طرف توجہ نہ دی گئی۔اب یہ مشن کھل گئے ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اچھی کامیابی ہو رہی ہے خصوصاً کلکتہ میں زیادہ کامیابی ہو رہی ہے وہاں اب تک ایک درجن اچھے کام کرنے والے آدمی سلسلہ میں داخل ہو چکے ہیں اور درجنوں ہیں جو تیار ہو رہے ہیں اور قریب آ رہے ہیں۔کراچی میں بھی بیداری کے آثار نظر آتے ہیں کچھ لوگ وہاں بھی احمدی ہوئے ہیں اور امید ہے کہ وہاں جلد مرکز مضبوط ہو کر زیادہ اچھے نتائج پیدا ہو سکیں گے۔بمبئی میں دیر سے مشن قائم ہوا ہے ابھی موزوں جگہ بھی نہیں مل سکی مگر وہاں نیر صاحب