انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 446 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 446

انوار العلوم جلد ۱۷ بعض اہم اور ضروری امور ( ۱۹۴۴ ء ) کی طرف توجہ ہو۔اس سال دو نئے ادارے قائم کئے گئے ہیں ایک تعلیم الاسلام کالج ہے اور ایک فضل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ۔کالج کی پہلی جماعت یعنی ایف اے کا پہلا سال شروع ہو چکا ہے اور آئندہ سال کوشش کی جائے گی کہ بی اے کا پہلا سال بھی شروع کیا جا سکے۔خیال یہ تھا کہ چونکہ پہلا سال ہے اور اعلان بھی پوری طرح نہیں ہو سکا اس لئے ۵۰،۴۰ طالب علم بھی آجائیں تو بہت ہیں مگر خدا تعالیٰ کے فضل سے ۸۰ طالب علم آگئے ہیں جن میں دس بارہ ہندو اور سکھ بھی ہیں۔گویا کالج کی ابتداء نہایت خوش کن ہے اور امید ہے کہ اگر جماعت نے اس روح کے ماتحت کام کیا تو یہ بہت ترقی کر جائے گا اور اگر اس سال ۸۰ طالب علم آئے ہیں تو اگلے سال اور بھی زیادہ آئیں گے۔اس سال پندرہ سولہ طالب علم تو ایسے آئے ہیں کہ جنہوں نے تعلیم ختم کر رکھی تھی یعنی میٹرک پاس کرنے کے بعد دو دو چار چار سال سے بیٹھے تھے۔جب یہاں کا لج شروع ہوا تو وہ آکر داخل ہو گئے۔ان کے والدین نے ان کو یہاں بھیج دیا اور اس طرح گویا یہ طالب علم کالج کو مفت مل گئے اور جو نئے آئے ہیں اُن کی تعداد قریباً ۶۵ ہے۔پھر کوئی ادارہ نیا نیا جاری ہوتا ہے تو لوگوں میں نیا نیا جوش بھی ہوتا ہے اور انسان سمجھتا ہے کہ اس کا تجربہ کرے مگر کچھ عرصہ کے بعد نئے ہونے کی لذت جاتی رہتی ہے۔یہ وہ نقطہ نگاہ ہے جس کی طرف میں منتظمین کو توجہ دلاتا ہوں کہ اس کا خیال رکھیں اور جماعت کے دوستوں سے بھی کہتا ہوں کہ اب کالج کھل چکا ہے اُن پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ طلباء کو بھجوائیں تا وہ اعلیٰ درجہ کی دینی و دنیاوی تعلیم حاصل کر سکیں۔یہاں اخراجات بھی باہر کی نسبت کم ہوں گے اور ان کے بچے دوسرے شہروں کی مسموم ہوا سے بھی محفوظ رہیں گے۔بالعموم جب طالب علم کالجوں میں جا کر داخل ہوتے ہیں تو اُن کی عمر چھوٹی ہوتی ہے اور اُس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ زہریلی ہوا اُن پر اثر کرتی ہے لیکن اگر یہاں بی اے تک کی تعلیم وہ پاسکیں تو پھر وہ ہوا جو ا باحت اور بے دینی پیدا کرتی ہے اُن پر اثر نہ کر سکے گی خواہ وہ کہیں چلے جائیں۔کیونکہ یہاں وہ اُن لوگوں سے تعلیم حاصل کریں گے جو ان اعتراضات اور مسائل کو حل کرنے والے ہوں گے جو نو جوانوں کے