انوارالعلوم (جلد 17) — Page 11
انوار العلوم جلد ۷ مستورات سے خطاب (۱۹۴۳ ء ) نے یہ ہاتھ حضور کے منہ کے آگے رکھ دیا۔وار ہوا تو میرا ہاتھ چھلنی ہو گیا کسی نے پوچھا آپ کو درد نہیں ہوا تھا ؟ کہنے لگے اُس وقت تو میرے منہ سے ہی تک نہیں نکلی۔درد تو ہوتا تھا مگر میں اس ڈر کے مارے کہ کہیں میرا ہاتھ نہ ہل جائے ، رسول کریم ﷺ کو کوئی تکلیف نہ پہنچ جائے سی تک نہیں کرتا تھا۔تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں گالیاں کھانا، ماریں کھانا اور بے عزتی برداشت کرنا رتبہ حاصل کرنا ہے۔اب میں اختصار کے ساتھ اس سورۃ کے متعلق جو میں نے ابھی پڑھی ہے کچھ باتیں کہنی چاہتا ہوں۔اللہ تعالیٰ اس سورۃ میں فرماتا ہے اِنا أَعْطَيْنَكَ الْكَوْثَرَ ہم نے تجھ کو کوثر عطا فرمائی۔کوثر کے معنی ہیں کثرت بھلائی اور ایسا شخص جو بہت صدقہ و خیرات کرنے والا ہو تے پس اس کے معنے یہ ہوں گے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے آپ کو کوثر عطا فرمائی ہے۔یعنی ہر وہ چیز جو دنیا کی نعمت ہو سکتی ہے آپ کو دی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ یہ سورۃ ایسے وقت میں نازل ہوئی جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہت کم لوگ تھے۔آپ کے ملنے جلنے والے، رشتہ دار، عزیز سب مخالف تھے۔دشمنوں کی تعداد بہت زیادہ تھی ، دشمن اتنے طاقتور تھے کہ کوئی خیال بھی نہیں کر سکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ترقی دے گا اُس وقت اور ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إنَّا أعطيتك الكوثر ہم نے تجھ کو ہر نعمت بڑی تعداد میں دی ہے۔یہ اُس وقت کا الہام ہے جبکہ مسلمان بہت تھوڑی تعداد میں تھے۔اُن کے لئے گلیوں میں چلنا پھرنا بھی مشکل تھا۔خدا تعالیٰ نے اُس وقت رسول کریم ﷺ سے وعدہ کیا کہ ہم تجھے بہتات دیں گے اور ترقی دیں گے۔حضرت عمرؓ اس وقت تک ایمان نہیں لائے تھے۔ایک دن وہ گھر سے اس امر کا ارادہ کر کے نکلے کہ میں نَعُوذُ بِاللهِ ) رسول اللہ ﷺ کو قتل کروں گا۔راستے میں کسی نے پوچھا عمر ! یہ تلوار لگائے کہاں جا رہے ہو؟ کہنے لگے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو مارنے جارہا ہوں۔اُس نے کہا تمہارے بہن اور بہنوئی مسلمان ہو چکے ہیں پہلے اُن کو قتل کرو۔حضرت عمر نے کہا ہیں! یہ بات ہے! حضرت عمرؓ کوٹے اور اپنی بہن کے گھر کی طرف چلے۔اُن کا دروازہ بند تھا وہ کسی سے قرآن سن رہے تھے۔انہوں نے جاتے ہی دروازہ کھٹکٹھایا۔انہوں نے جواب دیا ٹھہرو کھولتے ہیں۔اوّل تو گھر کا دروازہ بند ہونا ہی بہت بڑی بات تھی پھر اُن کا یہ کہنا کہ ٹھہر وکھو لتے صلى الله