انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 312

انوار العلوم جلد کا ۳۱۲ تعلیم الاسلام کالج کے قیام کی اغراض جہلم کے منبع کے پاس ایسے نالے دیکھے ہیں اور میں خود بھی ان نالوں پر سے کو دکر گزرا ہوں مگر آہستہ آہستہ دریا ایسا وسیع ہوتا جاتا ہے کہ بڑے بڑے گاؤں اور بڑے بڑے شہر بہا کر لے جاتا ہے۔اسی طرح ابھی ہم دریا کے منبع کے قریب ہیں۔ایک زمانہ ایسا گزرا ہے جب لوگ ہماری جماعت کے متعلق سمجھتے تھے کہ یہ ایک نالے کی طرح ہے، جو شخص چاہے اس پر سے کود کر گزر جائے مگر اب ہم ایک نہر کی طرح بن چکے ہیں۔لیکن ایک دن آئے گا جب دنیا کے بڑے سے بڑے دریا کی وسعت بھی اس کے مقابلہ میں حقیر ہو جائے گی۔جب اس کا پھیلا ؤ اتنا وسیع ہو جائے گا ، جب اس کا بہاؤ اتنی شدت کا ہوگا کہ دنیا کی کوئی عمارت اور دنیا کا کوئی قلعہ اس کے مقابلہ میں ٹھہر نہیں سکے گا۔پس ہمارے پروفیسروں کے سپر دوہ کام ہیں جو خدا اور اُس کے فرشتے کر رہے ہیں۔اگر وہ دیانتداری کے ساتھ کام کریں گے تو یقیناً کامیاب ہوں گے اور اگر وہ غلطی کریں گے تو ہم یہی دعا کریں گے کہ خدا اُنہیں تو بہ کی توفیق دے اور اُنہیں محنت سے کام کرنے کی ہمت عطا فرمائے لیکن اگر وہ اپنی اصلاح نہیں کریں گے تو وہ اِس سلسلہ کی ترقی میں ہرگز روک نہیں بن سکیں گے۔جس طرح ایک مچھر بیل کے سینگ پر بیٹھ کر اُسے تھکا نہیں سکتا اسی طرح ایسے کمزور انسان احمدیت کو کسی قسم کی تھکاوٹ اور ضعف نہیں پہنچا سکیں گے۔جن سوالات کو اس وقت میرے سامنے پیش کیا گیا ہے ان سب کے متعلق میں ابھی فوری طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن جہاں تک لباس کا سوال ہے میری رائے یہ ہے کہ ہمیں تعلیم کو آسان اور سہل الحصول بنانا چاہئے اور کوئی ایسا بوجھ نہیں ڈالنا چاہئے جسے طالب علم برداشت نہ کر سکیں تا ایسا نہ ہو کہ غریب لڑکے اس بوجھ کی وجہ سے تعلیم سے محروم رہ جائیں۔جہاں تک کھیلوں کا تعلق ہے مجھے افسوس ہے کہ کالجوں میں بعض ایسی کھیلیں اختیار کر لی گئیں ہیں جن پر روپیہ بھی صرف ہوتا ہے اور صحت پر بھی وہ بُرا اثر ڈالتی ہیں۔میں نے یورپین رسالوں میں پڑھا ہے انگلستان میں کھیلوں کے متعلق ایک کمیٹی مقرر کی گئی تھی جس نے بہت کچھ غور کے بعد یہ رپورٹ پیش کی کہ ہاکی کے کھلاڑیوں میں سل کا مادہ زیادہ پایا جاتا ہے۔یہ تحقیق تو آج کی گئی ہے لیکن میں نے آج سے ۲۱ سال پہلے اس کی طرف توجہ دلا دی تھی اور میں نے