انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 226

انوار العلوم جلد ۷ ۲۲۶ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں غرض خدا تعالیٰ کی تازہ تائیدات نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ سلسلہ خدا تعالیٰ کا قائم کردہ سلسلہ ہے اور اُس کی نصرت اور تائید اس کے شامل حال ہے اس طرح وہ پیشگوئی جو آج سے ۵۹ سال پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے کی گئی تھی کہ میں تجھے ایک بیٹا عطا کروں گا جو خدا تعالیٰ کی رحمت کا نشان ہوگا، جو خدا تعالیٰ کی قدرت کا نشان ہوگا ، جو خدا تعالیٰ کے فضل اور احسان کا نشان ہو گا ، اُس کے ذریعہ اسلام اور احمدیت کا نام دنیا کے کناروں تک پہنچے گا۔وہ پیشگوئی بڑی شان اور جاہ و جلال کے ساتھ پوری ہوگئی۔آج سینکڑوں ممالک زبانِ حال سے گواہی دے رہے ہیں کہ میرے زمانہ خلافت میں ہی اسلام کا نام اُن تک پہنچا ، میرے زمانہ خلافت میں ہی احمدیت کے نام سے وہاں کے رہنے والوں کے کان آشنا ہوئے۔ایک نہیں، دو نہیں بیسیوں ممالک میں میرے ذریعہ سے اسلام اور احمدیت کا نام پہنچا اور خدا نے مجھے توفیق عطا فرمائی کہ میں ایک غریب جماعت کے ذریعہ ان ممالک میں اسلام کا جھنڈا بلند کروں۔اسی لاہور شہر میں ایک مشہور اخبار کا ایڈیٹر ہمیشہ اپنے اخبار میں شور مچاتا رہتا ہے کہ احمدیوں کا گروہ ایک چھوٹا سا گروہ ہے، ایک حقیر اور ذلیل گروہ ہے، زیادہ سے زیادہ ان کی تعداد ایک لاکھ ہے۔یہ ایک لاکھ اگر مسلمانوں سے خارج کر دیئے جائیں تو اس سے اسلام کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔مگر وہ ایک لاکھ افراد جن کو اسلام اور مسلمانوں سے خارج قرار دے کر اس اخبار کے ایڈیٹر کے نزدیک مسلمانوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا وہی اور صرف وہی ایک گروہ ہے جو دنیا کے کناروں تک اسلام کی تبلیغ کر رہا ہے ، وہی ایک گروہ ہے جو دنیا کے کناروں تک خدا اور اس کے رسول کا نام پہنچا رہا ہے ، وہی ایک گروہ ہے جو دنیا کے کناروں تک اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا بڑی مضبوطی سے گاڑ رہا ہے۔یہ ایک مٹھی بھر جماعت ہے مگر اس مٹھی بھر جماعت نے دنیا میں جس قدر تبلیغی مشن قائم کر کے دکھائے ہیں ان سے آدھے مشن ہی کروڑوں مسلمان کہلانے والے ہمیں دنیا میں دکھا دیں جو اُنہوں نے قائم کئے ہوں۔وہ لوگ جو ہمارے ذریعہ شرک کو چھوڑ کر اسلام میں داخل ہوئے ، وہ لوگ جو ہمارے ذریعہ عیسائیت کو چھوڑ کر حلقہ بگوش اسلام ہوئے ، وہ لوگ جو ہمارے ذریعہ دین اسلام