انوارالعلوم (جلد 17) — Page 218
انوار العلوم جلد ۷ ۲۱۸ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں دوران میں اُس نے ایک کاغذ میرے سامنے پیش کیا اور میں نے دیکھا کہ وہ ایک خط ہے جو انگلستان کے وزیر اعظم نے فرانسیسی حکومت کی طرف لکھا ہے اور اُس کا مضمون یہ ہے کہ جنگ کی حالت ایسی خطرناک ہوگئی ہے کہ آج ہمارا ملک دشمن کے ہاتھوں میں چلے جانے کے خطرہ میں ہے۔میں اس نہایت ہی نازک حالت میں فرانس کو پیشکش کرتا ہوں کہ فرانسیسی اور انگریزی دونوں حکومتوں کا الحاق کر دیا جائے اس طور پر کہ شہریت کے حقوق مشترک ہو جائیں یعنی حکومت ایک ہو، پارلیمنٹیں ملا دی جائیں۔خوراک کے ذخائر اور خزانہ بھی ایک ہی سمجھا جائے۔یہ چٹھی پڑھ کر خواب میں میں سخت گھبرا گیا کہ کیا انگلستان کی ایسی حالت ہونے والی ہے کہ وہ فرانس کو یہ آفر (OFFER) پیش کرے گا کہ ہماری اور تمہاری دونوں حکومتیں ایک ہو جائیں اور شہریت کے حقوق مشترک کر دیئے جائیں۔جب میں گھبراتا ہوں تو فرشتہ مجھے کہتا ہے یہ چھ ماہ پہلے کی بات ہے یعنی چھ مہینہ کے بعد حالت بدل جائے گی اور انگلستان کی کمزوری کی یہ حالت جاتی رہے گی۔میں نے یہ رویا اُسی وقت دوستوں کو سنا دی تھی۔چنانچہ اس رویا کے عین مطابق بعد میں واقعات رونما ہوئے۔اس رویا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو باتیں بتائی گئی تھیں وہ یہ تھیں۔اول۔جرمنی اور انگریزوں کی لڑائی ہو گی۔دوم۔انگلستان اور فرانس ایک طرف ہوں گے۔یہ تو سب لوگ کہتے ہی تھے جہاں سے پیشگوئی کا حصہ شروع ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ اس جنگ میں انگلستان پر ایک ایسا نازک وقت آئے گا جب انگریزی حکومت فرانسیسی حکومت سے درخواست کرے گی کہ انگریزی اور فرانسیسی گورنمنٹ کو ایک کر دیا جائے۔میں دعویٰ سے کہتا ہوں یہاں پر بڑے بڑے پروفیسر موجود ہیں ، تاریخ دان بیٹھے ہوئے ہیں ، میں ان سب سے کہتا ہوں کہ دنیا کے کسی ملک کی تاریخ نکال کر دیکھ لو تمہیں کہیں یہ مثال نہیں ملے گی کہ دوز بر دست حکومتوں میں سے جب ایک کو خطرہ محسوس ہوا ہو تو اُس نے دوسری حکومت سے یہ کہا ہو کہ آو ہم تم دونوں ایک ہو جائیں۔کوئی انسانی دماغ ایسی بات نہیں کہہ سکتا تھا کیونکہ انسانی دماغ وہی بات کہہ سکتا ہے جس کی مثالیں پہلے ملتی ہوں مگر میں نے بتایا ہے چھ سات ہزار سال کی تاریخ موجود ہے۔امریکہ کی تاریخ لے لو،