انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 217

انوار العلوم جلد کا ۲۱۷ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں رؤسا مجھے ملے اور کہنے لگے آپ نے قرآن خوب پڑھا ہوا ہے۔ہم نے تو اپنی ساری عمر میں یہ نکتہ پہلی دفعہ سنا ہے۔چنانچہ واقعہ یہی ہے ساری تفسیروں کو دیکھ لوکسی مفسر قرآن نے آج تک یہ نکتہ بیان نہیں کیا۔حالانکہ میری عمر اُس وقت ہیں سال کی تھی جب اللہ تعالیٰ نے یہ نکتہ مجھ پر کھولا۔غرض اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتہ کے ذریعہ مجھے قرآن کریم کا علم عطا فرمایا ہے اور میرے اندر اُس نے ایسا ملکہ پیدا کر دیا ہے جس طرح کسی کو خزانہ کی کنجی مل جاتی ہے اسی طرح مجھے قرآن کریم کے علوم کی کنجی مل چکی ہے۔دنیا کا کوئی عالم نہیں جو میرے سامنے آئے اور میں قرآن کریم کی افضیلت اُس پر ظاہر نہ کر سکوں۔یہ لاہور شہر ہے یہاں یو نیورسٹی موجود ہے، کئی کالج یہاں کھلے ہوئے ہیں ، بڑے بڑے علوم کے ماہر اس جگہ پائے جاتے ہیں میں اِن سب سے کہتا ہوں دنیا کے کسی علم کا ماہر میرے سامنے آ جائے ، دنیا کا کوئی پروفیسر میرے سامنے آجائے، دنیا کا کوئی سائنسدان میرے سامنے آجائے اور وہ اپنے علوم کے ذریعہ قرآن کریم پر حملہ کر کے دیکھ لے میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اُسے ایسا جواب دے سکتا ہوں کہ دنیا تسلیم کرے گی کہ اُس کے اعتراض کا رڈ ہو گیا اور میں دعویٰ کرتا ہوں کہ میں خدا کے کلام سے ہی اُس کو جواب دوں گا اور قرآن کریم کی آیات کے ذریعہ سے ہی اس کے اعتراضات کو رڈ کر کے دکھا دوں گا۔دوسری پیشگوئی میرے متعلق یہ کی گئی تھی کہ اس پر خدا کا کلام نازل ہوگا۔یہ پیشگوئی بھی میری ذات میں پوری ہوئی اور خدا تعالیٰ نے سینکڑوں مرتبہ غیب کی باتیں مجھ پر ظاہر کیں۔میں اس وقت صرف دو تازہ مثالیں دے دیتا ہوں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے کلام سے نوازا اور غیب کی خبریں مجھ پر ظاہر فرمائی۔۱۹۳۹ ء کی بات ہے میں اُس وقت دھرم سالہ میں تھا اور خبر میں یہ آرہی تھیں کہ انگریزوں اور جرمنی میں لڑائی چھڑنے والی ہے۔انہی دنوں میں نے رویا میں دیکھا کہ میں ایک کرسی پر بیٹھا ہوں اور ایک فرشتہ میرے سامنے انگلستان اور فرانس کی حکومتوں کی باہمی خط و کتابت پیش کر رہا ہے وہ کا غذات میرے سامنے پیش کرتا چلا جاتا ہے اور میں ان کا غذات کو پڑھ کر اُسے واپس دیتا چلا جاتا ہوں گو یا فائل میں سے وہ ایک ایک کاغذ نکالتا اور میرے سامنے پیش کرتا ہے اور میں پڑھنے کے بعد اُسے واپس دے دیتا ہوں۔اسی