انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 206 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 206

۲۰۶ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں انوار العلوم جلد ۱۷ دعا مانگی۔میری عمر اُس وقت اتنی چھوٹی نہ تھی مگر بڑی بھی نہ تھی۔۲۵ سال میری عمر تھی ، میری والدہ موجود تھیں ، میری بیوی موجود تھیں اور میرے بچے بھی تھے مگر میں نے اُس وقت نیت کر لی کہ چونکہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ میری وجہ سے جماعت میں تفرقہ پیدا ہو رہا ہے اس لئے میں خاموشی سے کہیں باہر نکل جاؤں گا تا کہ میں تفرقہ کا باعث نہ بنوں۔چنانچہ میں نے دعا کی کہ خدایا ! میں اس جماعت میں فتنہ پیدا کرنے والا نہ بنوں تُو میرے دل کو تقویت عطا فرما تا کہ میں پنجاب یا ہندوستان کے کسی علاقہ میں اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ کر نکل جاؤں اور میری وجہ سے کوئی فتنہ پیدا نہ ہو۔اس کے بعد میں نے پختہ ارادہ کر لیا کہ کہیں نکل کر چلا جاؤں گا مگر خدا کی قدرت ہے دوسرے تیسرے دن ہی اچانک حضرت خلیفہ اول کی وفات ہوگئی اور میں اس جھگڑے میں پھنس گیا۔تب جماعت کے غریب طبقہ نے میرے ہاتھ پر بیعت کر لی اور وہ جو بڑے بڑے لوگ کہلاتے تھے جماعت سے الگ ہو گئے۔ان میں سے ایک ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب تھے۔انہوں نے وہاں سے روانہ ہوتے وقت ہماری عمارتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم تو جاتے ہیں کیونکہ جماعت نے ہم سے اچھا سلوک نہیں کیا لیکن تم دیکھ لو گے کہ دس سال کے عرصہ میں ان جگہوں پر عیسائیوں کا قبضہ ہو جائے گا اور احمدیوں کے ہاتھ سے یہ تمام جائدادیں نکل جائیں گی۔اُس وقت میرے ہاتھ پر دو ہزار کے قریب آدمیوں نے بیعت کی ، باہر کی اکثر جماعتیں ابھی بیعت میں داخل نہیں ہوئی تھیں۔یہاں تک کہ پیغا م صلح میں لکھا گیا کہ پچانوے فیصدی جماعت ہمارے ساتھ ہے اور صرف پانچ فیصدی جماعت مرزا محمود احمد کے ساتھ ہے۔مگر ابھی دو مہینے نہیں گزرے تھے بلکہ ابھی صرف ایک مہینہ ہی ہوا تھا کہ ساری کی ساری جماعت میری بیعت میں شامل ہو گئی اور پیغام صلح نے یہ لکھنا شروع کر دیا کہ ۹۵ فیصدی جماعت مرزا محمود احمد کے ساتھ ہے اور صرف پانچ فیصدی ہمارے ساتھ۔پھر میری مخالفت بھی تھوڑی نہیں ہوئی میرے قتل کی کئی بار کوششیں کی گئیں۔احرار کی شورش کے ایام میں ہی ایک دفعہ قادیان میں سرحد کی طرف سے ایک پٹھان آیا اور میرے مکان کے دروازے پر کھڑے ہو کر اُس نے لڑکا اندر بھیجا کہ وہ مجھ سے ملنا چاہتا ہے۔میں تو ان باتوں کی پرواہ نہیں کیا کرتا میں آنے ہی لگا تھا کہ مجھے باہر کچھ شور کی آواز سنائی