انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 192

انوار العلوم جلد کا ۱۹۲ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں میرے ذریعہ سے کئی خاندان پرورش پارہے ہیں۔ایسی حالت میں آپ کو خبر دی گئی کہ اسلام کی خدمت کے لئے خدا تعالیٰ نے آپ کو چن لیا ہے۔جس وقت یہ آواز آپ کے کان میں پڑی آپ کی حالت یہ تھی کہ اور لوگ تو الگ رہے خود قادیان کے لوگ بھی آپ کو نہیں جانتے تھے۔میں نے خود قادیان کے کئی باشندوں سے سُنا ہے کہ ہم سمجھتے تھے بڑے مرزا صاحب کا ایک ہی بیٹا ہے دوسرے کا ہمیں علم نہیں تھا۔آپ اکثر مسجد کے حجرے میں بیٹھے رہتے اور دن رات اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہتے۔اُس وقت خدا تعالیٰ نے آپ سے وعدہ فرمایا کہ وہ آپ کو بہت بڑی برکت دے گا اور آپ کا نام عزت کے ساتھ دنیا کے کناروں تک پھیلائے گا۔یہ الہام بھی ایک عجیب موقع پر ہوا۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جو اہلحدیث کے ایک مشہور لیڈر تھے جب وہ نئے نئے مولوی نذیرحسین صاحب دہلوی سے پڑھ کر آئے تو اُس وقت حنفیوں کا بہت زور تھا اور اہلحدیث کم تھے۔مولوی محمد حسین صاحب جب تعلیم سے فارغ ہو کر بٹالہ میں آئے تو ایک شور مچ گیا کہ یہ مولوی لوگوں کو اسلام سے برگشتہ کرنا چاہتا ہے۔اتفاقاً اُنہی دنوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی اپنے کسی کام کے لئے بٹالہ تشریف لے گئے۔لوگوں نے زور دیا کہ آپ چلیں اور مولوی محمد حسین صاحب سے بحث کریں کیونکہ وہ بزرگوں کی ہتک کرتا ہے اور اسلام پر تبر چلا رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اُن کے ساتھ جامع مسجد میں چلے گئے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بھی و ہیں موجود تھے۔آپ نے اُن سے کہا کہ مولوی صاحب ! مجھے معلوم نہیں آپ کے کیا عقائد ہیں۔پہلے آپ اپنے عقائد بیان کریں اگر وہ غلط ہوئے تو میں ان کی تردید کروں گا اور اگر صحیح ہوئے تو انہیں تسلیم کرلوں گا۔مولوی محمد حسین صاحب نے کھڑے ہو کر ایک مختصر تقریر کی جس میں بیان کیا کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ، قرآن کریم پر اور محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان رکھتے ہیں۔قرآن چونکہ خدا تعالیٰ کا ایک یقینی اور قطعی کلام ہے اس لئے ہم اسے سب سے مقدم قرار دیتے ہیں اور جو کچھ قرآن میں لکھا ہے اسے مانتے ہیں۔دوسرے نمبر پر ہم سمجھتے ہیں کہ جو کچھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ ہمارے لئے قابل عمل ہے اور اگر کوئی حدیث قرآن کے مخالف ہو تو اس صورت میں ہم قرآن کریم کے بیان کو ترجیح دیتے ہیں اور اگر کوئی بات ہمیں قرآن اور