انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 189

انوار العلوم جلد کا ۱۸۹ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں برادران ! اللہ تعالیٰ کے حضور ہندو، عیسائی، سکھ اور مسلمان سارے ہی اُس کی مخلوق ہونے کی حیثیت سے ایک جیسے ہیں اور وہ سب کا خیر خواہ اور سب سے ہی محبت کرنے والا ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ لوگ تو اُس کی باتوں کو سن کر اُس کی رحیمیت والے احسان کو قبول کر لیتے ہیں اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو صرف خدا تعالیٰ کی رحمانیت والے احسان کو ( یعنی اللہ تعالیٰ کے اُس احسان کو جو بغیر محنت کے نازل ہوتا ہے ) حاصل کرتے ہیں۔محنت اور کوشش والے انعام کو حاصل کرنے کی جدو جہد نہیں کرتے مگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو اُن کی اس غفلت کی وجہ سے چھوڑ نہیں دیتا بلکہ جب کبھی اُن کے دل اُس سے پھر جاتے ہیں ، جب کبھی غفلت اور تاریکی دنیا میں چھا جاتی ہے، جب کبھی لوگوں میں جہالت، دین سے بعد اور خدا تعالیٰ سے منافرت پیدا ہو جاتی ہے اللہ تعالیٰ اپنے ما موروں کو مبعوث فرماتا ہے تا کہ وہ لوگوں کے دلوں کو صاف کریں۔اُن کو خدا تعالیٰ کی طرف واپس لائیں، نیکی اور تقویٰ دنیا میں قائم کریں اور خدا تعالیٰ کی بادشاہت اسی طرح اس زمین پر آ جائے جس طرح وہ آسمان پر ہے۔ایسے ہی لوگوں میں سے بانی سلسلہ عالیہ احمد یہ تھے اور جس طرح خدا تعالیٰ کی سنت ہے کہ ہمیشہ اُس کی طرف سے آنے والے لوگ ادفی حالت سے ترقی کیا کرتے ہیں، ویسی ہی حالت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بھی تھی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارا خاندان بادشاہوں کی نسل میں سے ہے۔چنانچہ ہمارے خاندان کا مورث اعلیٰ مرزا ہادی بیگ صاحب حاجی برلاس کی اولاد میں سے تھے جو امیر تیمور کے چچا تھے اور جو لوگ تاریخ سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ علاقہ کش کے اصل بادشاہ حاجی بر لاس ہی تھے ، تیمور نے حملہ کر کے ان کے علاقہ پر قبضہ کر لیا تھا۔اسی وجہ سے ہمارے خاندان کے افراد جاہلیت کے زمانہ میں جبکہ احمدیت ابھی ظاہر نہیں ہوئی تھی اور جبکہ قرآنی تعلیم ان کے دلوں میں راسخ نہیں ہوئی تھی ، تیموری نسل کی لڑکیاں تو لے لیتے تھے مگر تیموری نسل کے مغلوں کو اپنی لڑکیاں نہیں دیتے تھے کیونکہ وہ اُن کو اپنے مقابلہ میں ادنی سمجھتے تھے۔لیکن بہر حال جہاں تک ظاہری و جاہت کا سوال ہے وہ قریب قریباً تباہ اور برباد ہو چکی تھی۔مغلیہ سلطنت کے مٹنے کے بعد جب سکھوں کا دور شروع ہوا تو اُس وقت ہماری تمام ریاست سکھوں کے قبضہ میں چلی گئی۔اس کے بعد مہا راجہ رنجیت سنگھ صاحب نے ہمارے پانچ گاؤں واگزار کر دیئے۔مگر جب