انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 116 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 116

صلى الله صلى الله ١١٦ انوار العلوم جلد ۱۷ ایک دفعہ صحابه کوفرمایا الا أُنَبِّئُكُمْ بِاَكْبَرِ الْكَبَائِرِ۔اے میرے صحابہ! کیا میں تمہیں اُن گناہوں کی خبر نہ دوں جو سب سے بڑے ہیں۔صحابہ نے کہایا رَسُولَ اللهِ ! ضرور بتائیے آپ نے فرمایا۔اَلْإِشْرَاكُ بِاللہ سب سے بڑا گناہ خدا تعالیٰ کا کسی کو شریک قرار دینا ہے۔پھر فرمایا - وَعَقُوقُ الْوَالِدَيْنِ بڑے بڑے گناہوں میں سے ایک اور بڑا گناہ یہ ہے کہ والدین کی نافرمانی کی جائے ، اُن کو دُکھ دیا جائے اور اُن کی باتوں کو نہ مانا جائے۔یہ کہہ کر آپ اُٹھ کر بیٹھ گئے۔وَكَانَ مُتَّكِنا۔اس سے پہلے آپ تکیہ لگائے ہوئے تھے اور پھر بڑے زور سے فرمایا۔اَلا وَقَوْلَ النُّورِ - آلَا وَقَوْلَ الرُّوُر - اَلا وَقَوْلَ الرُّوُر - ۳۵ کان کھول کر سُن لو کہ پھر بہت بڑا گناہ جھوٹ بولنا ہے، پھر بہت بڑا گناہ جھوٹ بولنا ہے ، پھر بہت بڑا گناہ جھوٹ بولنا ہے۔پھر رسول کریم ﷺ نے بڑے درد اور کرب سے اس بات کو اتنی بار دہرایا کہ ہمیں آپ کی تکلیف کا شدید احساس ہوا اور ہم نے اپنے دل میں خیال کرنا شروع کیا کہ کاش! رسول کریم ع آب خاموش ہو جائیں ، کیونکہ ہم نے آپ کی بات خوب سمجھ لی ہے۔مگر کتنے ہیں جو آج سچائی کو وہ اہمیت دیتے ہیں جو محمد رسول اللہ ﷺ نے دی۔ہم تو ا دیکھتے ہیں لوگ ذرا ذرا سی بات پر جھوٹ بول لیتے ہیں اور اس بات کی کچھ بھی پرواہ نہیں کرتے کہ اسلام نے سچائی کو کس قدرا ہمیت دی ہے۔ہماری جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے سچائی کو بہت حد تک اپنے معاملات میں ملحوظ رکھتی ہے لیکن پھر بھی ابھی ایک طبقہ ایسے لوگوں کا پایا جاتا ہے جو جھوٹ سے نفرت نہیں کرتا بلکہ بعض لوگ میرے سامنے آ کر بھی بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ فلاں واقعہ ہوا تو یوں ہے مگر میرے پاس فلاں شخص اس کے متعلق کچھ دریافت کرنے آیا تو میں نے اُسے کہہ دیا کہ مجھے کچھ معلوم نہیں۔میں اُس وقت حیرت سے اُس کے منہ کو دیکھتا ہوں کہ یہ خلیفہ وقت کے سامنے جہ ، جب جھوٹ بول رہا ہے تو پھر دوسرے لوگوں کے سامنے یہ کس قدر جھوٹ بولتا ہو گا لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹ سے اس قدر نفرت تھی کہ آپ نے درد کے ساتھ اس فقرہ کو اتنا دُہرایا اتنا ہرایا کہ صحابہ کہتے ہیں ہم نے اپنے دل میں کہا خدایا ! رسول کریم علی آب خاموش ہو جائیں آپ کی تکلیف ہم سے دیکھی نہیں جاتی۔