انوارالعلوم (جلد 17) — Page 58
انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۸ صف میں کھڑا کیا جائے گا مگر سوال یہ ہے کہ دوسرے نے بھی تو حافظ بننے کی پوری کوشش کی تھی۔پس گو وہ حافظ نہ بن سکا لیکن اُس کی اس کوشش کی وجہ سے اُس کے حق کو کیوں زائل کیا جائے۔پہلا شخص اگر حافظ بنا تو اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اُس کا دماغ ایسا اعلیٰ درجہ کا بنایا تھا کہ اُس نے دو مہینے میں قرآن حفظ کر لیا اور دوسرا شخص اگر حافظ نہ بنا تو اس لئے کہ اُس کا دماغ کمزور تھا اور وہ دو مہینہ میں ایک رکوع بھی حفظ نہیں کر سکتا تھا۔مگر بہر حال چونکہ دونوں نے ایک جیسی کوشش کی ہوگی اس لئے ضرور ہے کہ ان دونوں کو انعام بھی ایک جیسا ملے۔پس اگر ایک شخص اپنے اعلیٰ دماغ کی وجہ سے حافظوں میں شمار کیا جائے گا تو دوسرا شخص شفاعت کی وجہ سے حافظ سمجھا جائے گا اور کہا جائے گا کہ چونکہ اس نے حافظ بننے کی اپنی طرف سے پوری کوشش کی تھی اس لئے اسے بھی حافظ ہی سمجھ لو۔غرض اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے بندوں کی نجات کا ایک ذریعہ یہ بنایا ہے کہ جب کوئی بندہ اخلاص اور نیک نیتی سے کوشش کرتا ہے مگر مجبوریوں یا پیش آمدہ حالات کی وجہ سے اعلیٰ مقام کو نہیں پا سکتا تو قیامت کے دن اُس قوم کا نبی جس کو دنیا میں نمونہ بنا کر بھیجا گیا تھا جب اُسے دیکھے گا تو کہے گا کہ یا اللہ ! یہ بھی میرے جیسا ہے اسے نجات دے دی جائے ، پس اللہ تعالیٰ اُسے نجات دے دے گا۔نجات کا اصل گر یہی ہے کہ ہر شخص کا پس نجات کا اصل گر یہ ہے کہ انسان اپنے نبی کے نمونہ کے مطابق ہو یا اس عمل اپنے نبی کے نمونہ کے مطابق ہو قدر آپس میں مشابہت پائی جاتی ہو کہ نبی اُسے دیکھ کر کہہ سکے کہ یہ مجھ سے ملتا جلتا ہے اسے بھی نجات ملنی چاہئے۔حقیقت یہ ہے کہ آدم کے زمانہ میں نجات کا اصل مستحق آدم تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ اب وہی شخص جنت میں جائے گا جو آدم سے ملتا جلتا ہوگا۔جتنے لوگ آدم بنتے چلے جائیں گے وہ جنت میں داخل ہوتے چلے جائیں گے۔یہ علیحدہ بات ہے کہ کوئی آدم کی چھوٹی تصویر بنے اور کوئی آدم کی بڑی تصویر بنے ، کوئی چھوٹا آدم بنے اور کوئی بڑا آدم بنے مگر بہر حال اُس زمانہ میں آدم بننا ضروری تھا۔جب تک کوئی شخص چھوٹا آدم نہ بن جاتا وہ جنت میں داخل نہیں ہو سکتا