انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 35

انوار العلوم جلد کا ۳۵ بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۳)۔آئندہ اس بات کو نہ اُٹھا ئیں۔یہاں اُس زمانہ میں جس قسم کے افسر بھیجے گئے اُن کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ ایک افسر نے کہا یہ تو میں ماننے کیلئے تیار ہوں کہ احمدی اچھے ہوتے ہیں لیکن میں یہ نہیں مان سکتا کہ جہاں احمدیوں کی کثرت ہو وہاں بھی وہ ظلم نہیں کرتے۔غرض کیا احرار اور کیا دوسرے مسلمان ، کیا گورنمنٹ اور کیا دوسری اقوام سب لوگ ہمارے خلاف کھڑے ہو گئے۔دوسری اقوام کے اخبارات بھی احرار کی تائید اور حمایت کرتے تھے۔ایسے وقت میں تحریک جدید کو جاری کیا گیا۔جب میں نے اس کے متعلق ارادہ کیا تو میں خود نہ جانتا تھا کہ کیا کیا لکھوں گا مگر جوں جوں میں نوٹ لکھتا جاتا خدا تعالیٰ وہ طریق اور وہ ذرائع سمجھاتا جاتا جن سے احمدیت مضبوط ہو سکتی تھی۔اُس وقت ہماری مالی حالت اتنی کمزور تھی کہ تبلیغی ٹریکٹوں کی اشاعت سے ہم عاجز تھے۔ایسے حالات میں میں نے تحریک جدید جاری کی اور اس کا ایک حصہ ریز رو فنڈ کا رکھا۔جب میں نے اس کیلئے تحریک کی تو مجھے پتہ نہ تھا کہ میں کیا بول رہا ہوں۔اُس وقت میں نے جو تقریر کی اُس کے الفاظ کچھ ایسے مہم تھے کہ جماعت نے سمجھا کہ تین سال کیلئے چندہ مانگ رہے ہیں اور وہ اکٹھا دینا ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ مثلاً کسی کا ا کا ارادہ سو روپیہ سال میں دینے کا تھا تو اُس نے تین سال کا چندہ تین سو رو پید اکٹھا دے دیا۔ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے صحیح مفہوم سمجھا مگر ایسے بھی تھے جنہوں نے غلط سمجھا اور اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل ہوا کہ ایک لاکھ سات ہزار کے وعدے ہوئے۔جب دوسرے سال کیلئے تحریک کی گئی تو بعض لوگ کہنے لگے ہم نے تو تین سال کا اکٹھا چندہ دے دیا تھا اب ہمیں کیا کرنا چاہئے ؟ میں نے کہا یہ طوعی چندہ ہے آپ اب نہ دیں مگر انہوں نے کہا ہم تکلیف اُٹھا ئیں گے اور خواہ کچھ ہواب بھی ضرور چندہ دیں گے اور کہا کہ پہلے سے زیادہ دیں گے۔اس طرح اُنہوں نے تین سال کیلئے جو اکٹھا چندہ دیا تھا دوسرے سال اُس سے زیادہ دیا کیونکہ وہ مجبور ہو گئے کہ اپنے اخلاص کو قائم رکھنے کیلئے چندہ پہلے سے بڑھا کر دیں۔بعض مخلص ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنا سارے کا سارا اندوختہ دے دیا تھا۔ایک نے لکھا دوسرے سال میں نے شرم کی وجہ سے بتایا نہیں تھا میں نے اپنی کچھ اشیاء بیچ کر چندہ دیا تھا۔پھر تیسرے سال سب کچھ بیچ باچ کر چندہ دے چکا ہوں اب رقم کم کرنے پر مجبور ہوں۔لیکن نویں سال میں لکھا کہ خدا تعالیٰ نے کچھ رقم جمع کرنے