انوارالعلوم (جلد 17) — Page 29
انوار العلوم جلد ۷ ۲۹ بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۳) در اصل قانون خود بخود نہیں چلتا بلکہ اُن افسروں کے ذریعہ چلتا ہے جو اسے چلانے کیلئے مقرر ہوتے ہیں۔اگر ان افسروں میں انصاف نہ ہو، خدا ترسی نہ ہو تو وہ ہر بات کو کمزوروں کے خلاف بنا لیتے ہیں۔میں تو کہتا ہوں اگر اللہ تعالیٰ نے احمد یہ جماعت کے نو جوانوں کو فوج میں بھرتی ہونے کیلئے انگریزوں اور جرمنوں کی جنگ کرا دی تو یہ حکمت بھی کوئی چھوٹی حکمت نہیں ہے۔پچھلے دنوں بھرتی ہونے والوں کا شمار کیا گیا تھا تو معلوم ہوا کہ قادیان میں جس قدر بھرتی ہونے والوں کے نام لکھے گئے وہ پونے بارہ سو کے قریب ہیں یہ صرف قادیان سے بھرتی ہونے والوں کی تعداد ہے اور یہاں احمدیوں کی تعداد دس بارہ ہزار کے قریب ہے۔گویا ۱۲ ۱۴ بلکہ ۱۵ فیصدی نوجوان بھرتی ہو کر قادیان سے چلے گئے ہیں۔اس طرح بیرونی جماعتوں میں سے بھرتی ہونے والوں کا اندازہ لگایا گیا تو معلوم ہوا کہ اس وقت تک ۱۵ ہزار کے قریب جوان بھرتی ہو کر لڑائی میں جاچکے ہیں حالانکہ ہماری تعداد آبادی کے لحاظ سے بہت کم ہے۔جالندھر ڈویژن کے متعلق رپورٹ یہ ہے کہ ہماری جماعت کا اس وقت تک سات ہزار رنگروٹ بھرتی ہو چکا ہے۔تو اس میں شبہ نہیں کہ ہماری جماعت کے بہت لوگ بھرتی ہو کر جنگ میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔مگر ابھی بہت سے ایسے ہیں جو بھرتی ہو سکتے ہیں۔پس یہ موقع جو خدا تعالیٰ نے بہم پہنچایا ہے اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھانا چاہئے۔ٹیکنیکل بھرتی میں بے شک تنخواہ زیادہ ملتی ہے اور میں اس میں بھرتی ہونے والوں کو فائدہ سے محروم کرنا نہیں چاہتا مگر ملک اور حکومت اور دنیا کی خدمت بلکہ جماعت کی خدمت کا زیادہ موقع لڑنے والی فوج میں بھرتی ہونے سے مل سکتا ہے کیونکہ اس میں ایسی ٹرینینگ آ جاتی ہے کہ جب دشمن حملہ آور ہو تو کامیابی سے اُسکا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔اس وقت اگر تم دشمن سے مار کھا لو اور مقابلہ میں زیادتی نہ کرو تو دنیا کہے گی کہ تم نے صبر سے کام لیا اور قابلِ تعریف حوصلہ دکھایا اور اس کا بہت اچھا اثر ہوگا۔۱۹۳۲ء کے آخر میں جب میں سیالکوٹ گیا تو وہاں میرا لیکچر مقرر تھا۔جب شام کے وقت میں لیکچر دینے کیلئے گیا تو کئی لوگوں کی طرف سے مجھے پیغام پہنچا کہ جلسہ گاہ کے گرد احراری بڑی جماعت میں جمع ہیں اور فساد کا خطرہ ہے آپ نہ آئیں۔میں نے کہا چونکہ میری تقریر کا اعلان کر