انوارالعلوم (جلد 17) — Page 535
انوار العلوم جلد کا ۵۳۵ الموعود قابلیت کا کیا حال ہوگا۔ایک دفعہ ہمارے نانا جان حضرت میر ناصر نواب صاحب نے میرا اُردو کا امتحان لیا۔میں اب بھی بہت بدخط ہوں مگر اُس زمانہ میں تو میرا اتنا بد خط تھا کہ پڑھا ہی نہیں جاتا تھا کہ میں نے کیا لکھا ہے۔اُنہوں نے بڑی کوشش کی کہ پتہ لگا ئیں میں نے کیا لکھا ہے مگر انہیں کچھ پتہ نہ چلا۔میرے بچوں میں سے اکثر کے خط مجھ سے اچھے ہیں۔میرے خط کا نمونہ صرف میری لڑکی امۃ الرشید کی تحریر میں پایا جاتا ہے۔اُس کا لکھا ہوا ایسا ہوتا ہے کہ ایک دفعہ ہم نے امتۃ الرشید کے لکھے ہوئے پر ایک روپیہ انعام مقرر کر دیا تھا کہ اگر خود امتہ الرشید بھی پڑھ کر بتا دے کہ اُس نے کیا لکھا ہے تو اُسے ایک روپیہ انعام دیا جائے گا۔یہی حالت اُس وقت میری تھی کہ مجھ سے بعض دفعہ اپنا لکھا ہوا بھی پڑھا نہیں جاتا تھا۔جب میر صاحب نے پر چہ دیکھا تو وہ جوش میں آگئے اور کہنے لگے یہ تو ایسا ہے جیسے لنڈے لکھے ہوئے ہوں۔اُن کی طبیعت بڑی تیز تھی۔غصہ میں فوراً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس پہنچے۔میں بھی اتفاقاً اُس وقت گھر میں ہی تھا۔ہم تو پہلے ہی اُن کی طبیعت سے ڈرا کرتے تھے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس شکایت لے کر پہنچے تو اور بھی ڈر پیدا ہوا کہ اب نہ معلوم کیا ہو۔خیر میر صاحب گئے اور حضرت صاحب سے کہنے لگے کہ محمود کی تعلیم کی طرف آپ کو ذرا بھی توجہ نہیں۔میں نے اس کا اُردو کا امتحان لیا تھا، آپ ذرا پر چہ تو دیکھیں اس کا اتنا بُر اخط ہے کہ کوئی بھی یہ خط نہیں پڑھ سکتا۔پھر اسی جوش کی حالت میں وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہنے لگے آپ بالکل پرواہ نہیں کرتے اور لڑکے کی عمر برباد ہو رہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب میر صاحب کو اس طرح جوش کی حالت میں دیکھا تو فرمایا بلا ؤ حضرت مولوی صاحب کو۔جب آپ کو کوئی مشکل پیش آتی تو ہمیشہ حضرت خلیفہ اول کو بلا لیا کرتے تھے۔حضرت خلیفہ اول کو مجھ سے بڑی محبت تھی۔آپ تشریف لائے اور حسب معمول سر نیچے ڈال کر ایک طرف کھڑے ہو گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا مولوی صاحب ! میں نے آپ کو اس غرض کے لئے بلا یا ہے کہ میر صاحب میرے پاس آئے ہیں اور کہتے ہیں کہ محمود کا لکھا ہوا بالکل پڑھا نہیں جاتا۔میرا جی چاہتا ہے کہ اس کا امتحان لے لیا جائے۔یہ کہتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے