انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 503 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 503

انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۰۳ الموعود نہیں کہہ سکتے کہ جولڑ کا قریب مدت میں ہوگا وہی موعود ہوگا یا یہ کہ یہ پیشگوئی بالکل الگ ہے اور ایک دوسرے لڑکے کی خبر دیتی ہے۔یعنی یہ نہیں کہہ سکتے کہ اللہ تعالیٰ نے 9 سالہ میعاد کو مختصر کر کے قریب مدت سے محصور کر دیا ہے یا یہ کہ 9 سالہ میعاد الگ قائم ہے اور یہ ہے اور یہ پیشگوئی الگ ہے۔بہر حال اس نوٹ سے دشمن کو اعتراض کا کوئی حق نہ پہنچتا تھا کیونکہ دشمن کا اعتراض صرف یہ تھا کہ مدت لمبی ہے تھوڑا وقت مقرر ہونا چاہئے چنانچہ آپ نے ایک مدت حمل میں لڑکا پیدا ہونے کا اعلان کر دیا۔یہ لڑ کا خواہ وہی موعو دلڑ کا ہوتا جس کی خبر ۲۰ فروری ۱۸۸۶ ء کے اشتہار میں دی گئی تھی یا دوسرالڑ کا ہوتا ، دشمن کا اعتراض بہر حال اس قریب مدت میں لڑکا پیدا ہو جانے سے دور ہو جاتا تھا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ لکھنا کہ نا معلوم قریب مدت میں پیدا ہونے والا لڑ کا موعود ہے یا نیا لڑکا ، صرف یہ فائدہ دیتا ہے کہ اس پیشگوئی میں دونوں امکان ہیں یہ بھی کہ ایک اور لڑکے کی خبر بھی دی گئی ہے جو جلد پیدا ہوگا اور یہ بھی کہ شاید مصلح موعود کی میعاد کو گھٹا کر کم کر دیا گیا ہے۔دوسرا الہام اس اشتہار میں یہ درج ہے کہ آنے والا یہی ہے یا ہم دوسرے کی راہ میں یعنی لوگ اُس کی پیدائش پر سوال کریں گے کہ کیا یہی لڑکا جو قریب مدت میں پیدا ہوا ہے آنے والا موعود ہے یا وہ اس کے بعد پیدا ہو گا۔اس الہام کے الفاظ صاف بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ پیشگوئی دولڑکوں کی پیدائش کا امکان اپنے اندر رکھتی ہے کیونکہ اگر دولڑکوں کا امکان اس سے پیدا نہ ہوتا تو لوگوں کی زبان سے یہ فقرہ نہ کہلوایا جاتا کہ آنے والا یہی ہے یا ہم دوسرے کی راہ تکیں۔یہ فقرہ اُسی وقت کہا جاتا ہے جب کہ ایک سے زیادہ وجودوں کی خبر ہو جن میں سے ایک خاص علامات رکھنے والا وجود ہو۔جب ایک وجود اس خبر کے بعد ظاہر ہو تو طبعاً لوگ سوال کرتے ہیں کہ ہمیں بتایا جائے کہ یہ وجود عام موعود ہے یا خاص موعود ہے۔اس لڑکے یعنی بشیر اول سے پہلے اور آٹھ اپریل ۱۸۸۶ ء والے اشتہار کے چند ماہ بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاں ایک لڑکی بھی پیدا ہوئی تھی جس کا نام آپ نے عصمت رکھا تھا۔اُس لڑکی کی پیدائش پر دشمنوں نے شور مچایا کہ لڑکے کی پیشگوئی غلط نکلی کیونکہ لڑکی پیدا ہوئی ہے۔حالانکہ الہام یہ تھا کہ پیدا ہونے والا لڑ کا ایک مدت حمل سے تجاوز نہ کرے گا اور مدت حمل نو اور دس ماہ