انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 479 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 479

۴۷۹ بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۴ ء ) انوار العلوم جلد ۱۷ استخارہ کرے، نماز عشاء میں دعا کرے یا عشاء کی نماز کے بعد دو نفل الگ پڑھ کر دعا کرے کہ الہی ! اگر میں اس کو نباہ سکتا ہوں اور اسے تو ڑ کر تیرے غضب کو اپنے لئے بھڑ کانے والا نہ ہوں گا تو مجھے اس میں شامل ہونے کی توفیق دے۔پس جو دوست اس میں شامل ہونا چاہیں وہ سات روز تک مسلسل استخارہ کرنے کے بعد مجھے اطلاع دیں۔دوسرے اس میں شامل ہونے والوں کو یہ عہد کرنا ہو گا کہ کسی بھائی سے خواہ اُن کا کتنا شدید اختلاف کیوں نہ ہو مرکزی حکم کے بغیر اُس کی اقتداء میں نماز ادا کرنا ترک نہ کریں گے۔اور اگر وہ دعوت کرے گا تو اُسے رڈ نہ کریں گے۔اور خواہ کسی سے جائداد کا جھگڑا ہو خواہ کوئی اور جھگڑا ہو، کسی نے اُن کو یا اُن کے بیوی بچوں کو کتنی تکلیف کیوں نہ دی ہو اور خواہ اُس سے اِن کے مقدمات چل رہے ہوں وہ بات چیت کرنا ترک نہ کریں گے۔اُس کی دعوت کو رڈ نہ کریں گے اور نماز پڑھانے والے امام کے ساتھ اگر ان کا جھگڑا ہو تو اُس کے پیچھے نماز پڑھنے سے ہرگز گریز نہ کریں گے جو دوست یہ وعدہ کرنے کو تیار ہوں وہ اپنے نام پیش کریں ورنہ نہیں۔تیسرا اقرار جو اُن کو کرنا ہوگا اور جو دراصل ہر احمدی بیعت میں شامل ہوتے وقت بھی کرتا ہے یہ ہے کہ سلسلہ کی طرف سے اُن کیلئے جو ذریعہ اصلاح تجویز کیا جائے اُسے بخوشی قبول کریں گے۔چوتھے یہ کہ اس کام کو وہ نفسانیت اور ذاتی نفع نقصان اور قرابت و رشتہ داری کے خیالات کے ماتحت ہرگز نہ کریں گے اور ہمیشہ مظلوم کی مدد کے جذبہ کے ماتحت کھڑے ہوں گے اور یہ بھی خیال نہ کریں گے کہ مظلوم اُن کا رشتہ دار اور عزیز ہے یا دوست ہے بلکہ اُس کی مدد خالصہ اس لئے کریں گے کہ وہ مظلوم ہے۔پھر مظلوم کے معنی احمدی یا مسلمان کے ہی نہیں ہیں بلکہ مظلوم خواہ کسی مذہب اور کسی فرقہ اور کسی ملک کا ہو اُس کی مدد کریں گے جو شخص ان شرائط کو پورا کرنے کا عہد کرے گا اُس کے شامل کرنے کے متعلق میں غور کروں گا اور کسی کے متعلق نہیں۔آگے مدد کس طرح کرنی ہوگی یہ سب تفاصیل بعد میں بتائی جائیں گی۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتا دیا ہے اور عقلی طور پر بھی میں سمجھتا ہوں اگر جماعت کا معتد بہ حصہ اس میں شامل ہو