انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 470 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 470

انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۷۰ بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۴ ء ) مسلم لیگ میں جو طبقہ برسر اقتدار ہے اس کا کوئی اصول نہیں وہ تھالی کے بینگن کی طرح ہیں۔پنجاب میں جو لوگ اس کے ذمہ دار ہیں ان کا کوئی متفقہ پروگرام ہی نہیں ہے۔ان میں کمیونسٹ پرو پیگنڈا کرنے والے بھی شامل ہیں اور ان کو کمیونسٹوں کی امداد بھی حاصل ہے ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو بعض امور میں کانگرس کی بھی تائید کرتے ہیں۔مثلاً سیاسی قیدیوں کی رہائی کا سوال ہے وہ اِس مطالبہ میں کانگرس کی حمایت کرتے ہیں اور یہ حمایت کرنے والے بعض ایسے لوگ بھی ہیں جن کے مشورہ سے کانگرسی قید کئے گئے تھے۔مطلب یہ کہ یہ لوگ مصلحت وقت کے ماتحت کام کرتے ہیں۔پنجاب کی مسلم لیگ کا کوئی مقصد ہی نہیں۔نام تو مسلم لیگ ہے مگر وہ بعض کانگرسی مطالبات کی تائید بھی کرتی ہے جیسا کہ کانگرسی قیدیوں کی رہائی کے سوال کا میں نے ذکر کیا ہے۔پھر اس میں کمیونسٹوں کے حامی بھی ہیں گویا وہ ہر دلعزیز بننے کی کوشش کرتی ہے۔دوسری پارٹی مسلمانوں کی جو ہے اس میں زیادہ سنجیدہ لوگ ہیں مگر وہ بھی بعض خرابیاں کر رہی ہے اور اس کی طرف سے بعض ایسی حرکات ہوتی ہیں کہ جن کے نتیجہ میں سرکاری افسروں کی اخلاقی حالت گر رہی ہے۔خواہ کوئی اس امر کا اقرار کرے یا نہ کرے یہ واقعہ ہے کہ اس پارٹی کی طرف سے سرکاری افسروں پر ایسا دباؤ ضرور ڈالا جاتا ہے کہ وہ اس کی تقویت کیلئے کام کریں اور اس کی حمایت کریں۔مجھے ایک بڑے سرکاری افسر نے کہا کہ میں نے اس پارٹی کیلئے چندہ جمع کرنا ہے اور اتنی رقم پیش کرنی ہے کیونکہ مجھ سے فلاں بڑے آدمی نے یہ خواہش کی تھی کہ اس پارٹی کو چندہ دلاؤں اور میرے نزدیک سرکاری حکام کا پارٹی بازی میں حصہ لینا نہایت ہی خطرناک بات ہے۔میں یہ مان لیتا ہوں کہ بعض وزراء کا اس میں دخل نہ ہوگا لیکن اس میں شک نہیں کہ سرکاری حکام سے اس پارٹی کی حمایت کا کام ضرور لیا جاتا ہے جو نہایت ہی بُری بات ہے۔برطانوی سیاست اسی لئے کامیاب ہے کہ انگریز حکام کسی سیاسی پارٹی میں حصہ نہیں لیتے جو بھی پارٹی برسر اقتدار ہو اُس کی اطاعت کرتے ہیں۔اگر لبرلوں کی حکومت ہو تو اُس کی اطاعت کرتے ہیں اور اگر لیبر پارٹی کی حکومت ہو تو اُس کی اطاعت کرتے ہیں خود کسی پارٹی میں شامل نہیں ہوتے۔