انوارالعلوم (جلد 17) — Page 449
انوار العلوم جلد ۷ ۴۴۹ بعض اہم اور ضروری امور ( ۱۹۴۴ ء ) کالج کے لئے میں نے دولاکھ روپیہ چندہ کی اپیل کی تھی۔پہلی تحریک ایک لاکھ پچاس ہزار کی تھی مگر بعد میں دولاکھ کی کی تھی اور اب تک ایک لاکھ ستاون ہزار روپیہ کے وعدے آچکے ہیں اور ۴۳ ہزار باقی ہے احباب کو چاہئے کہ اِس رقم کو جلد از جلد پورا کریں۔میں نے جہاں تک غور کیا ہے کالج کے چندہ کا بوجھ صرف چند لوگوں نے اُٹھایا ہے اکثر لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اس میں حصہ نہیں لیا۔بیت المال پھر تحریک کر رہا ہے اور مجھے امید ہے کہ جماعت کے دوست ۴۳ ہزار روپیہ جلد از جلد پورا کر دیں گے۔اگر دوست تھوڑا تھوڑا بھی حصہ لیں تو یہ رقم نہایت آسانی سے پوری ہو سکتی ہے۔مستقل اخراجات کیلئے چالیس پچاس ہزار روپیہ کی مزید ضرورت ہوگی اور بی اے۔بی ایس سی کی کلاسیں جاری کرنے کے لئے ایک لاکھ کے قریب روپیہ کی ضرورت ہوگی مگر اس کے لئے اعلان ۱۹۴۵ ء کے کسی حصہ میں کیا جائے گا۔سر دست دو لاکھ روپیہ میں سے جتنا باقی ہے اسے پورا کر دیا جائے۔لیکن اس کے ساتھ ہی باقاعدہ چندے بھی درست با شرح اور باقاعدگی کے ساتھ ادا کرتے رہیں تا سلسلہ کے دوسرے کاموں پر کوئی اثر نہ پڑے۔ریسرچ انسٹی ٹیوٹ جس کا میں نے ذکر کیا ہے اسے صحیح طور پر چلانے کے لئے تو کم از کم تمہیں لاکھ روپیہ چاہیئے اِس میں ۲۵ ،۳۰ ایم ایس سی یا بی ایسی سی کام کرنے والے ہونے چاہئیں۔ہم بالعموم زندگیاں وقف کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر فی کس دوسو روپیہ بھی سب کو وظیفہ دیا جائے تو ۷۲ ہزار روپیہ سالانہ تو صرف تنخواہوں کا خرچ ہوگا۔اس کے علاوہ آلات کا خرچ ہے، کیمیکلز کا خرچ ہے، دھاتوں وغیرہ کا خرچ ہے، بجلی کا خرچ ہے اور اس قسم کے کئی دوسرے اخراجات ہیں۔جن کے لئے کافی روپیہ چاہیئے تو یہ سب سے زیادہ اخراجات والی چیز ہے۔مگر چونکہ یہ ادارہ خود بھی آمد پیدا کرے گا۔اس لئے امید ہے کہ اس کے لئے زیادہ چندوں کی ضرورت پیش نہ آئے گی۔بہر حال کچھ عرصہ کے بعد پتہ لگ سکے گا کہ ہم اس سکیم کو کس طرح چلا سکتے ہیں۔اس سکیم کے ماتحت پانچ نو جوان ایم ایس سی کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ایک دوست جو پہلے گورنمنٹ سروس میں تھے استعفیٰ دے کر یہاں آچکے ہیں اس سال اُن