انوارالعلوم (جلد 17) — Page 389
انوار العلوم جلد ۱۷ ۳۸۹ خدام الاحمدیہ کیلئے تین اہم باتیں لوگوں کے لئے آجکل استعمال کیا جاتا ہے اس قسم کی جاسوسی اسلام میں منع ہے۔میں نے صرف اُن کے فرائض پر زور دینے کے لئے یہ لفظ استعمال کیا ہے ورنہ صحیح الفاظ یوں ہیں کہ اگر احمدیت کے اخلاق کے آٹھ سو نمائندے قادیان میں موجود ہوتے اور کوئی گھر ایسا نہ ہوتا جس میں ایک نمائندہ موجود نہ ہوتا یا اگر کوئی ایک گھر خالی ہوتا تو اس کے قریب کے گھر میں اخلاق احمدیت کا نمائندہ موجود ہوتا تو اس قسم کے حالات کے پیدا ہونے پر اُن میں سے ہر شخص آگے بڑھتا اور کہتا میں اپنے باپ کے خلاف شہادت دیتا ہوں یا اپنے چچا کے خلاف شہادت دیتا ہوں یا اپنے دوست کے خلاف شہادت دیتا ہوں کہ وہ گراں قیمت پر چوری چھپے اشیاء فروخت کر رہا ہے۔جس طرح قرآن کریم نے کہا ہے کہ اگر تمہیں اپنے باپ یا اپنی ماں یا بھائی یا اپنے کسی اور رشتہ دار کے خلاف گواہی دینی پڑے تو تم خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے نڈر ہو کر گواہی دے دو اور رشتہ داری کی کوئی پرواہ نہ کرو۔اسی طرح اگر خدام خلق یہ جذبہ اپنے اندر پیدا کر چکے ہوتے تو ہر محلہ میں سے ایسے نوجوان نکل کر کھڑے ہو جاتے جو ہمارے پاس آکر کہتے ہمارے باپ کے پاس فلاں چیز موجود ہے مگر وہ دُکان پر تو یہ کہہ دیتا ہے کہ میرے پاس نہیں لیکن جب کوئی چوری چھپے زیادہ قیمت دے دیتا ہے تو اُسے وہ چیز دے دیتا ہے۔اسی طرح کوئی اور نو جوان نکلتا اور کہتا کہ میری ماں جو کپڑا بیچا کرتی ہے وہ دُکان پر تو یہ کہہ دیتی ہے کہ میرے پاس فلاں کپڑا نہیں لیکن جب کوئی گھر میں آکر زیادہ قیمت دے دیتا ہے تو اس قیمت پر وہ کپڑا نکال کر اسے دے دیتی ہے۔اگر خدام الاحمدیہ نے اپنے فرائض کو ادا کیا ہوتا اور ہر نوجوان کے دل میں اخلاق کی اہمیت کو قائم کیا ہوتا تو ہمیں آج اپنے اندر وہی نظارہ نظر آتا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مجلس میں صحابہ کے اخلاق کا نظر آیا کرتا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ایک دفعہ ایک منافق نے کہہ دیا کہ مدینہ چل لینے دو وہاں سب سے زیادہ معزز آدمی یعنی نَعُوذُ بِاللہ) عبداللہ بن ابی ابن سلول سب سے زیادہ ذلیل شخص یعنی نَعُوذُ بِاللهِ محمد رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مدینہ سے نکال دے گا۔جب اُس نے یہ بات کہی تو اس کے بعد سب سے پہلا شخص جو یہ شکایت لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچا اسی عبداللہ بن ابی ابن سلول کا بیٹا تھا۔اُس نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! میرے باپ نے ایسا کہا ہے اور اُس