انوارالعلوم (جلد 17) — Page 377
خدام الاحمدیہ کیلئے تین اہم باتیں انوار العلوم جلد ۱۷ پیش کیا گیا ہے اور اس فقرہ کے مطالب کو بار بار لوگوں کے سامنے نہیں رکھا گیا۔اسی وجہ سے جب ہم لوگوں کے سامنے یہ وسیع مضمون بیان کرتے ہیں تو وہ حیران ہو جاتے ہیں کہ ہم اس بات کو جو دنیا کو پہلے بھی معلوم ہے ایک نیا پیغام کس طرح قرار دے رہے ہیں حالانکہ اصل کو تا ہی اُن کی اپنی نظر کی ہوتی ہے۔چنانچہ اس کا ثبوت یہ ہوتا ہے کہ جب اُن کے سامنے ان تمام وسیع مضامین کا ایک مجموعہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ کے الفاظ میں پیش کیا جاتا ہے تو وہ متاثر نہیں ہوتے لیکن جب اُن کے سامنے اسلام کے اس خلاصہ کا ہزارواں بلکہ کروڑواں حصہ نکال کر پیش کیا جاتا ہے اور اُس کی کوئی ایک تشریح اُن کے سامنے کی جاتی ہے تو وہ اس سے متاثر ہو جاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ چیز واقعہ میں ایسی ہے جو دنیا کے لئے ایک نیا پیغام کہلاسکتی ہے۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا کہ مذہب کا خلاصہ یہ ہے کہ خدا سے تعلق پیدا کیا جائے اور بنی نوع انسان سے شفقت کی جائے۔یہ خلاصہ اگر ہم لوگوں کے سامنے بیان کریں تو تمام یوروپین مصنف اور نامہ نگار اسے ایک نیا پیغام قرار دیں گے۔وہ اس سے متاثر ہوں گے اور وہ تسلیم کریں گے کہ یہ نظریہ یقیناً ایسا ہے جو دنیا کے سامنے بار بار آنا چاہئے اور جس کو قائم کرنے کے لئے ہمیں اپنی انتہائی کوششیں صرف کرنی چاہئیں لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ خلاصہ آگے پھر خلاصہ ہے لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله کا۔در حقیقت لا إلهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله بہت سے وسیع مضامین پر مشتمل ہے جن میں سے صرف ایک مضمون کا خلاصہ وہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیش فرمایا ہے لیکن اسلام کے اس پیش کردہ خلاصہ کو نہ جاننے کی وجہ سے یوروپین نامہ نگار لَا إِلهُ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ سے متاثر نہیں ہوں گے۔ہاں اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس خلاصہ کو پیش کیا جائے کہ مذہب کی اہم اغراض دو ہیں ” خدا سے تعلق اور بنی نوع انسان سے محبت تو ساری دنیا اس سے متاثر ہوگی اور وہ سمجھے گی کہ ترقی کا یہ ایک نیا پہلو ہمارے سامنے رکھا گیا ہے اور ایک نئی چیز ہے جو ہمارے سامنے پیش کی گئی ہے۔عیسائی اگر کوشش کریں تو وہ بھی ” خدا محبت ہے میں سے یہ دونوں باتیں نکال سکتے ہیں لیکن وہ اس امر سے انکار نہیں کر سکتے کہ یہ ایک نیا طریق بیان ہے جس سے بنی نوع انسان کو نیکی کی طرف متوجہ کیا جا سکتا ہے۔