انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 331 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 331

انوار العلوم جلد ۱۷ ٣٣١ غزوہ غز وہ جنین کے موقع پر صحابہ کرام کا قابل تقلید نمونہ کامیابی ہو جائے گی۔حالانکہ یہاں دلوں کو فتح کرنے کا سوال تھا اور دلوں کو فتح کرنے کے لئے تلواریں کام نہیں دے سکتیں۔غرض اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ دشمن جب کہ چاروں طرف سے حملہ کر رہا ہے رسول کریم اللہ کے محبین ان حملوں کے دفاع کے لئے آگے بڑھیں۔وہ اپنے وطنوں کی محبت کو بھول جائیں ، وہ اپنے رشتہ داروں کی محبت کو بھول جائیں ، وہ اپنی عزت اور اپنے مناصب، اپنے آرام اور اپنی سہولت کو مد نظر نہ رکھیں بلکہ جہاں ضرورت ہو، جہاں اسلام کے قلعہ پر حملہ ہو رہا ہو ، یا جہاں دشمن کے قلعہ پر کامیاب حملہ کیا جا سکتا ہو وہاں جائیں اور اپنی زندگیاں اور اپنے اوقات اسلام کی ترقی اور اُس کی عظمت کے لئے قربان کر دیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے آج ہمارے ایمانوں کے امتحان کا وقت ہے۔پہلے لوگ آئے اور جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم کی حفاظت کا سوال تھا وہاں انہوں نے اپنی جانوں کو قربان کرنے سے دریغ نہ کیا۔انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ! دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گذرے۔آج رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کی حفاظت کا سوال نہیں بلکہ آج رسول کریم ﷺ کی عزت اور آپ کے ناموس کی حفاظت کا سوال ہے۔پس آج ہر سچے مومن کا فرض ہے کہ وہ دشمن کے اس چیلنج کو قبول کرے اور اُسے کہے کہ با وجود تمہاری طاقت اور قوت کے ، اور باوجود تمہاری شوکت کے میں تمہاری حقیقت ایک پر پشہ کے برابر بھی نہیں سمجھتا۔اگر رسول کریم ﷺ کے ننگ و ناموس پر حملہ کرو گے تو پہلے تمہیں میرے ننگ و ناموس کو چاک کرنا پڑے گا۔ہر شخص جس کے دل میں یہ جذبہ پیدا نہیں ہوتا اُسے ایمانِ کامل حاصل نہیں بلکہ میں کہتا ہوں اُسے ایمان ناقص بھی حاصل نہیں کیونکہ محبت کا ایک ادنی جذ بہ بھی انسان کو بے تاب کر دیتا ہے۔پس وہ مبلغ جو تبلیغ کے لئے پہلے گئے ہوئے ہوں یا آب جا رہے ہیں میں اُن کو کہتا ہوں بے شک آپ لوگ وہ ہیں جنہیں رسول کریم ﷺ کی آواز پر لبیک کہنے کا پہلا موقع ملا مگر یاد رکھیں آپ اس وقت اکیلے نہیں بلکہ ہر بچے احمدی کا دل آپ کے ساتھ ہے کیونکہ ہر سچا احمدی اس میدان میں اپنی شہادت کو بہترین انعام سمجھتا ہے اور ہر بچے احمدی کا دل اس بات پر غمگین صلى الله