انوارالعلوم (جلد 17) — Page 328
انوار العلوم جلد ۱۷ ۳۲۸ غزوہ حنین کے موقع پر صحابہ کرام کا قابل تقلید نمونہ صلى الله ذات پر حملہ شروع کر دیتا ہے۔خواہ وہ فلسفہ کی کتاب لکھے ، خواہ وہ سائنس کی کتاب لکھے ، خواہ وہ تاریخ کی کتاب لکھے ، وہ چاہتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو لوگوں کی نظروں سے گرا دے۔وہ چاہتا ہے کہ مسلمانوں کو اس نقطہ مرکزی سے منحرف کر دے۔سبق ہم کو سکھایا گیا تھا مگر اس کا فائدہ کہو یا نا جائز فائدہ ہمارا دشمن اُٹھا رہا ہے۔ایسے وقت میں جبکہ میں نے بتایا ہے رسول کریم ہے خود اپنے جسم اطہر کے ساتھ دنیا میں موجود نہیں ہیں ، ایک محبت کرنے والے مسلمان کی غیرت کتنی بھڑک اُٹھنی چاہئے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رسول کریم ہے جہاں تک آپ کے فیوض کا تعلق ہے زندہ ہیں اور قیامت تک زندہ رہیں گے، لیکن جہاں تک جسم کا تعلق ہے وہ فوت ہو چکے ہیں اور میں نہیں سمجھتا کہ کوئی با غیرت انسان ایسا ہو سکتا ہے جس کے زندہ باپ پر اگر کوئی شخص حملہ کرے تو وہ اُس کی حفاظت کے لئے آگے بڑھے لیکن اگر اُس کے باپ کی لاش پر کوئی حملہ کرے تو وہ خاموش ہو کر بیٹھ جائے۔یقینا جس طرح وہ اپنے زندہ باپ کی حفاظت کرے گا اسی طرح اگر اُس کے اندر غیرت موجود ہے تو میں یقیناً سمجھتا ہوں جب وہ اپنے باپ کی لاش پر کسی شخص کو حملہ کرتے دیکھے گا تو اُس کے اندر دیوانگی کی سی روح پیدا ہو جائے گی۔مُردہ جسم بے شک کام نہیں آ سکتا مگر اُس کے ساتھ جو محبت کے جذبات وابستہ ہوتے ہیں وہ اُس کی قیمت زندہ سے بھی بڑھا دیتے ہیں یا درفتہ اپنے اندر ایک ایسا در درکھتی ہے، ایک ایسا اُبال رکھتی ہے کہ انسان اپنی ہر چیز ایک ساعت کے اندر فنا کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔مثلاً کسی کے زندہ باپ کو کوئی شخص مارے تو بھی اُسے غصہ آئے گا لیکن اگر یہ مشہور ہو جائے کہ کسی کے باپ کی لاش کو جوتیاں ماری گئی ہیں تو وہ کہے گا میں اب دنیا میں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا۔جب محبانِ صادق نے رسول کریم ﷺ کی زندگی میں یہ کہا کہ يَارَسُولَ اللهِ! ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے ، آپ کے آگے بھی لڑیں گے پیچھے بھی لڑیں گے اور يَا رَسُولَ اللهِ! دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے۔تو اب جبکہ رسول کریم ﷺ فوت ہو چکے ہیں ، اب جبکہ آپ کی عزت و ناموس پر دشمن چاروں طرف سے حملہ کر رہا ہے ، اب جبکہ وہ خود دنیا میں ان حملوں کا جواب دینے کے لئے موجود نہیں