انوارالعلوم (جلد 17) — Page 273
انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۷۳ زندگی وقف کرنے کی تحریک کے برابر ہو جاتی ہیں۔اگر ان میں چار مرکز بھی مقرر کئے جائیں تو بائیس مقامات ہو گئے جہاں ہمیں اپنے تبلیغی مراکز قائم کرنے چاہئیں۔اگر ایک ایک مبلغ فی صوبہ مقرر کیا جائے تو میں مبلغ رکھنے پڑتے ہیں۔مگر ان میں سے کئی صوبے ایسے ہیں جو خاص توجہ کے محتاج ہیں اور کسی نہ کسی وجہ سے ان میں تبلیغ کرنا بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔مثلاً پنجاب مرکز ہے احمدیت کا اور اس وجہ سے میں سمجھتا ہوں کہ لاہور، راولپنڈی اور ملتان خاص اہمیت رکھتے ہیں اور اس وجہ سے کہ بیعت شروع ہوئی تھی لدھیانہ سے ، لدھیانہ بھی اہم مقام ہے اور اس وجہ سے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پہلے زیادہ تر سیالکوٹ میں رہے ہیں ، سیالکوٹ بھی خاص توجہ چاہتا ہے۔اسی طرح امرتسر پنجاب میں مشہور شہر ہے۔یہ چھ جگہیں ایسی ہیں جہاں ہمیں چھ مبلغ رکھنے چاہئیں۔ایک مبلغ چونکہ صوبہ کے لحاظ سے آ گیا تھا اس لئے اُس کو نکال کر چھپیں مبلغ ہو گئے۔اس کے بعد یو پی لے لیا جائے۔یو پی اس لحاظ سے کہ کسی زمانہ میں مسلمانوں کا مرکز رہا ہے زیادہ توجہ کا محتاج ہے گو وہاں مسلمان اب کم ہیں مگر پھر بھی لکھنو ، الہ آباد، کانپور اور بنارس خاص جگہیں ہیں۔اگر صوبہ کا ایک مبلغ نکال دیا جائے تو تین مبلغ اور بڑھ گئے۔گویا پچپیں اور تین اٹھائیس ہو گئے۔بنگال میں ڈھا کہ اور کلکتہ کے علاوہ میمن سنگھ ایک اہم جگہ ہے اور مسلمانوں کا مرکز ہے۔وہاں مولوی کثرت سے پائے جاتے ہیں ان مقامات میں کم سے کم ہمیں دو مرکز قائم کرنے چاہئیں۔اٹھائیں پہلے تھے دو یہ ہو گئے گویا تمیں مبلغ ہو گئے۔سندھ میں حیدر آباد ایسا شہر ہے جہاں مستقل مرکز کی ضرورت ہے کیونکہ وہاں سے تاجر ساری دنیا میں پھیل جاتے ہیں اس طرح اکتیس مبلغ ہو گئے۔بمبئی میں احمد آباد اور پونہ خاص مقام ہیں اگر ان کو بھی شامل کر لیا جائے تو تینتیس ہو گئے۔مدراس میں مالا بار وہ جگہ ہے جہاں احمدیت کی ابتدا ہوئی۔دوسرا اہم شہر مدراس میں مڈورا ہے جو پانچ لاکھ کی آبادی رکھتا ہے۔ان دو کو شامل کر کے پینتیس مبلغ ہو گئے۔ان میں سے بعض شہر ایسے ہیں جن میں ایک ایک مبلغ کافی نہیں ہو سکتا جیسے کلکتہ ہے یا بمبئی ہے یا اسی طرح کے بعض دوسرے شہر ہیں۔اگر ان شہروں کے لئے جن میں دہلی بھی شامل ہے پانچ اور مبلغ رکھے جائیں تو چالیس مبلغ ہو گئے۔چالیس مبلغوں کے لئے اگر ان شہروں کے اخراجات کو مدنظر رکھا جائے ، مکانات کا کرایہ دیکھا جائے اور ادھر