انوارالعلوم (جلد 17) — Page 270
انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۷۰ اہالیان لدھیانہ سے خطاب بہتری اسی میں ہے کہ ہماری آواز کو سنو۔اپنی عاقبت کی بہتری کیلئے سنو ! اور اس آواز کو جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بلند ہو رہی ہے غور سے سنو اور سمجھنے کی کوشش کرو۔اے خدا ! میں تجھ سے دعا کرتا ہوں کہ تو اِن لوگوں کے دلوں کو کھول دے اور ساری دنیا کے کانوں تک اس آواز کے پہنچنے کے سامان پیدا کر دے۔جس طرح ہم تیرے بندے ہیں اسی طرح وہ بھی ہیں جنہوں نے ابھی تیرے پیارے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کونہیں پہچانا تو اُن کو ہدایت دے اور سب کو اپنے جھنڈے کے نیچے جمع کر دے۔دنیا سے فساد، بدامنی ، بے دینی ، ظلم، فسق و فجور ایک دوسرے کے مال کو کھانے اور آپس میں لڑنے کی روح کو دنیا سے مٹا دے اور امن و آشتی کی روح پیدا کر دے۔اب میں دعا کرتا ہوں دوست بھی دعا کریں تا اللہ تعالیٰ دلوں کو کھول دے اور دنیا کی بد حالی کو خوشحالی میں تبدیل کر دے۔( الفضل ۱۸ / فروری ۱۹۵۹ء) ا تذکرہ صفحه ۱۰۴۔ایڈیشن چہارم السيرة الحلبية جلد ۳ صفحه ۱۰۶ ، ۱۰۷ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء الاستيعاب في معرفة الاصحاب جلد ۳ صفحه ۱۹۱ مطبوعہ بیروت ۱۹۹۵ء صلى الله مسلم كتاب الجهاد باب مالقى النبي له من اذى المشركين و المنافقين ه الفضل ۱۲ نومبر ۱۹۴۲ء سٹریٹ سیٹلمنٹس(STRAITS SETTLEMENTS) ملایا میں برطانیہ کی سابق شاہی نو آبادی۔۱۸۲۶ء سے ۱۸۵۸ ء تک برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی نے پینا نگ، ملکا اور سنگا پور کو ایک انتظامی جزو کی حیثیت سے سنبھالے رکھا۔بعد ازاں قلیل مدت کیلئے انڈیا آفس نے انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا۔۱۸۶۷ء میں یہ نو آبادی قائم کی اور ۱۹۴۶ء میں ختم کر دی گئی۔اب سنگا پور ایک الگ کالونی ہے مگر باقی حصے ملایا کے اتحاد میں شامل ہو گئے۔(اُردو جامع انسائیکلو پیڈیا جلد صفحہ ۷۴ مطبوعہ لا ہور ۱۹۸۷ء) بیے : بیا : چڑیا کی طرح کا ایک پرندہ۔اس کا گھر بنانا بڑا مشہور ہے۔و تذکرہ صفحہ ۱۴۹۔ایڈیشن چہارم