انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 223 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 223

انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۲۳ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں لیں۔یقیناً جو لوگ خدا تعالیٰ کے مامور کو قبول کریں گے ، خدا تعالیٰ اُن کے گھروں کو اپنی برکتوں سے بھر دے گا۔مگر وہ جو خدا تعالیٰ کے مامور کو رڈ کر دیں گے اُن پر اُس کی برکتوں کے دروازے بند کر دیے جائیں گے اور ایسے وجود انتہائی طور پر بدقسمت ہوں گے۔خدا نہ کرے آپ اُن بدقسمت لوگوں میں سے ہوں اور خدا تعالیٰ کے مامور کورڈ کر کے اُس کی رحمت کے دروازوں کو بند کرنے والے ہوں۔ہماری اللہ تعالیٰ سے یہی دعا ہے کہ وہ آپ لوگوں کے دلوں کو کھول دے۔حق آپ پر واضح کر دے اور محمدی فوج میں آپ سب کو داخل کر دے تا کہ محمد رسول اللہ علہ کے سچے متبعین میں شامل ہو کر آپ دنیا میں امن اور انصاف قائم کرنے کا موجب ہوں۔روحانیت کی ترقی ہو، تقویٰ کا قیام ہوا اور سب لوگ قدم سے قدم اور کندھے سے کندھا ملا کر دنیا کے ہر ملک اور دنیا کے ہر گوشہ میں خدا تعالیٰ کے انوار کو پھیلا دیں۔ہم نہ مسلمانوں کے دشمن ہیں نہ عیسائیوں، ہندوؤں اور یہودیوں کے دشمن ہیں بلکہ ہم سب کے دوست اور خیر خواہ ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے کانوں تک اپنی آواز پہنچا ئیں۔میں حیران ہوں کہ لوگ ہم سے کیوں دشمنی کرتے ہیں۔جب ہم مانتے ہیں کہ وہ ایک غلط راستہ پر ہیں تو کیا ہما را فرض نہیں کہ ہم دوسروں کو صحیح راستہ پر لائیں اور غلط راستہ پر چلنے سے انہیں روکیں۔مان لو کہ ہم غلطی پر ہیں مگر بہر حال جب ہم سمجھتے ہیں کہ دوسرے لوگ ایک ایسے راستہ پر چل رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہے تو کیا ہمارا فرض نہیں کہ ہم لوگوں کو سمجھا ئیں اور انہیں صحیح راستہ پر چلا ئیں ؟ اگر ایک شخص کنویں میں گر رہا ہو تو کیا دوسرے کا فرض نہیں ہوتا کہ وہ اُس کو بچانے کی کوشش کرے۔ہم جب سمجھتے ہیں کہ محمد رسول اللہ علی خدا تعالیٰ کے آخری شرعی رسول ہیں، جب ہم سمجھتے ہیں کہ قرآن اُس کا آخری شرعی کلام ہے، جب ہم سمجھتے ہیں کہ اسلام خدا کا نور ہے اور اُس کی برکتیں اُنہی لوگوں کو مل سکتی ہیں جو اُس کے احکام پر عمل کریں تو پھر ہمارا یہ بھی فرض ہے کہ ہم دوسروں کو تبلیغ کریں اور انہیں سمجھا ئیں کہ صحیح راستہ کون سا ہے اور غلط راستہ کونسا۔پس اگر ہماری جماعت کے افراد آپ لوگوں کے پاس تبلیغ کے لئے آتے ہیں تو آپ کو ہماری ہمدردی اور ہمارے جذبہ اخوت کی قدر کرنی چاہئے کہ ہم