انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 151

انوار العلوم جلد ۷ ۱۵۱ دعوی مصلح موعود کے متعلق پر شوکت اعلان جب موافق اور مخالف سب اس مضمون پر بخشیں کر کر کے تھک گئے تو اس سال کے شروع میں ۵، ۶ جنوری ۱۹۴۴ ء کی درمیانی رات کو میں نے ایک رؤیا دیکھا۔رؤیا کی حالت میں دیکھا کہ میں ایک ایسی جگہ پر ہوں جہاں دشمن کی فوج کے ساتھ جنگ ہو رہی ہے۔وہاں کھڑے ہو کر میں کچھ لوگوں سے باتیں کر رہا ہوں کہ یکدم مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے جرمن فوج نے اس مقام پر حملہ کر دیا ہے جہاں میں ہوں اور ایسی شدت سے حملہ کیا ہے کہ جس فوج کے پاس میں تھا اُس نے شکست کھانی شروع کر دی۔میں یہ دیکھ کر خواب میں خیال کرتا ہوں کہ اب یہاں ٹھہرنا مناسب نہیں مجھے بھاگ کر کہیں اور چلے جانا چاہئے۔چنانچہ میں اُس مقام سے باہر نکلا مگر جو نہی باہر آیا معاً میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ کسی سابق پیشگوئی کے ماتحت میں اس مقام سے بھاگنے کے لئے نکلا ہوں اور اب میرا آئندہ سفر اس پیشگوئی کے مطابق ہوگا۔چنانچہ میں نے دوڑنا شروع کر دیا۔رویا میں میں محسوس کرتا ہوں کہ میں اس تیزی سے دوڑ رہا ہوں کہ زمین میرے پیروں کے نیچے سمٹتی چلی جا رہی ہے اور میں میلوں میں ایک آن میں طے کرتا جا رہا ہوں۔میری اُس تیزی کا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جتنی دیر میں کوئی شخص گز بھر چلتا ہے میں خواب میں اتنی دیر میں پچاس ساٹھ میل بڑھ جاتا ہوں۔جرمن سپاہی بہت پیچھے رہ گئے ہیں اور میرے ساتھیوں کو بھی گو قدرت کی طرف سے دوڑنے کی ایسی ہی طاقت دی گئی تھی مگر پھر بھی وہ مجھ سے بہت پیچھے رہ گئے یہاں تک کہ میں دوڑتے دوڑتے ایک پہاڑی دامن میں جا پہنچا۔وہاں مختلف رستے مجھے دکھائی دیئے کوئی کسی طرف جاتا تھا اور کوئی کسی طرف۔میں ان رستوں کے بالمقابل دوڑتا چلا گیا تا میں معلوم کروں کہ پیشگوئی کے مطابق میں نے کونسا راستہ اختیار کرنا ہے۔اُس وقت میں ایک ایسی سٹرک کی طرف جارہا ہوں جو سب کے آخر میں بائیں طرف ہے۔اس پر میرا ایک ساتھی مجھے آواز دے کر کہتا ہے کہ اس سٹرک پر نہیں دوسری سٹرک پر جاؤں۔جب میں اس کے کہنے کے مطابق اُس سڑک کی طرف جو انتہائی دائیں طرف تھی واپس لوٹتا ہوں تو خدا تعالیٰ کی قدرت کے زبر دست ہاتھ نے مجھے پکڑ کر ایک درمیانی راستہ پر چلا دیا۔میرا ساتھی مجھے آواز میں دیتا چلا جاتا ہے کہ اس طرف آئیں اُس طرف نہ جائیں مگر میں اپنے آپ کو بے بس پاتا ہوں اور اُسی راستے پر دوڑتا چلا جاتا ہوں اور یہ محسوس کرتا ہوں