انوارالعلوم (جلد 17) — Page 123
انوار العلوم جلد ۷ ۱۲۳ اِس لئے تمام رات اُن کے کراہنے کی آواز آتی رہی۔رسول کریم ﷺ کو ان کے کراہنے کی وجہ سے نیند نہ آئی اور صحابہ نے یہ دیکھا کہ آپ کبھی دائیں کروٹ بدلتے ہیں اور کبھی بائیں۔صحابہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو عشق تھا اس کی وجہ سے انہوں نے فوراً آپس میں مشورہ کیا کہ رسول کریم ﷺ کو آج نیند نہیں آ رہی اور اس کی وجہ غالبا حضرت عباس کا کراہنا ہے۔ایک صحابی کہنے لگا تم چُپ رہو، میں عباس کی رسیاں ڈھیلی کر دیتا ہوں۔چنانچہ وہ گیا اور اُس نے حضرت عباس کی رسیاں ڈھیلی کر دیں۔رسیوں کے ڈھیلا ہوتے ہی اُن کے کراہنے کی آواز بند ہوگئی۔تھوڑی دیر کے بعد جب رسول کریم ﷺہ کو حضرت عباس کی آواز نہ آئی تو آپ نے فرمایا عباس کے کراہنے کی آواز کیوں نہیں آتی؟ صحابہ نے عرض کیا یار سُولَ اللهِ ! ہم نے اُن کی رسیاں ڈھیلی کر دی ہیں۔آپ نے فرمایا یہ تو مناسب نہیں یا تو سب قیدیوں کی رسیاں ڈھیلی کر دو اور یا پھر عباس کی رسیاں بھی سخت کر دو۔۵۵ یہ وہ لوگ تھے جو تلواریں لے کر مسلمانوں کے مقابلہ کیلئے نکلے تھے مگر باوجود اس کے کہ وہ مسلمانوں کے قتل کے ارادہ کے ساتھ اپنے گھروں سے نکلے تھے جب مسلمانوں کے ہاتھوں قید ہوئے تو رسول کریم ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ عباس میرا چچا ہے اس کی رسیاں بے شک ڈھیلی کر دو اور باقی قیدیوں کی رسیاں سخت رکھو بلکہ آپ نے فرمایا یا تو سب کی رسیاں ڈھیلی کر دو اور یا پھر عباس کی بھی سخت کر دو۔اسی طرح حضرت عباس کی قید کے بعد صحابہ رسول کریم ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے يَارَسُولَ اللهِ ! ہم آپ سے کچھ مانگنے آئے ہیں۔ہماری ایک بہن کا بیٹا عباس ہے، اس کا فدیہ معاف کر دیا جائے ( جنگ بدر میں کفار کے جس قدر آدمی قید ہوئے تھے اُن کے متعلق یہ فیصلہ ہوا تھا کہ وہ فدیہ دیکر رہا ہو سکتے ہیں ) رسول کریم ﷺ نے فرمایا یا تو سب کا فدیہ معاف کر دیا جائے اور یا ان سے بھی فدیہ وصول کیا جائے۔۵۶ یہ وہ انصاف تھا جو رسول کریم ﷺ کے اندر پایا جاتا تھا۔ادھر صحابہ کا کمال ادب دیکھو کہ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ يَارَ سُولَ اللهِ ! آپ کے چچا عباس کا فدیہ ہم معاف کرانے کے لئے آئے ہیں کیونکہ اگر وہ ایسا کرتے تو یہ سمجھا جاتا کہ وہ رسول کریم ﷺ پر کوئی احسان کر