انوارالعلوم (جلد 17) — Page 112
انوار العلوم جلد ۱۷ ۱۱۲ اُسے ضرورت ستر روپوں کی ہوتی ہے ایسے لوگوں کو چونکہ دنیا کھا تا پیتا دیکھتی ہے اس لئے اُن کی طرف اسے توجہ پیدا نہیں ہوتی مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر اتنی وسیع تھی کہ آپ اُن لوگوں کی تکالیف کو دور کرنے کی بھی کوشش کیا کرتے تھے جن کے پاس کچھ سامان ہوتا ہے اور کچھ نہیں ہوتا۔کیونکہ بعض دفعہ ایسے لوگ بھی چاہتے ہیں کہ اُن کے بوجھ کو کوئی اور شخص آ کر اُٹھائے۔وہ نہ تو اتنے لولے لنگڑے ہوتے ہیں کہ اپنا بوجھ نہ اُٹھا سکیں اور نہ اُن کا کندھا اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ سب بو جھ بغیر کسی تکلیف کے اُٹھا سکیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ ایسے لوگوں کی مددفرمایا کرتے تھے جس کے بعد وہ اپنا بوجھ اُٹھانے کے قابل ہو جاتے اور تُعِینُ عَلیٰ نَوَائِبِ الْحَقِّ کے الفاظ میں حضرت خدیجہ نے ایسے ہی لوگوں کی مدد کا ذکر کیا ہے۔مگر شرط یہ ہے کہ ایسے لوگ سستی اور غفلت سے کام لینے والے نہ ہوں بلکہ وہ واقعہ میں مدد کے محتاج ہوں اور اگر بعض لوگ سُستی اور غفلت سے کام لیتے ہوں تو اُن کو کام پر مجبور کرنا حکومت اور قوم کا فرض ہے۔قومی ترقی کیلئے نئے نئے راستوں کی تلاش جب ان باتوں پر عمل کر کے قوموں میں ایک حد تک ترقی ہو جاتی ہے اور وہ اپنا اندرونی نظام قائم کر لیتی ہیں، صلہ رحمی اُن کا شیوہ ہو جاتا ہے، غریبوں اور یتیموں کی پرورش اُن میں شروع ہو جاتی ہے، غیر قوموں سے صلح اور حسن سلوک اُن کے طریق عمل میں داخل ہو جاتا ہے اور وہ مصیبت زدہ جواپنا بوجھ نہیں اٹھا سکتے اُن کی مدد کا بھی انہیں خیال پیدا ہو جاتا ہے اور وہ ایک نظام کے ماتحت یہ تمام کام سرانجام دیتی ہیں تو پھر بھی وہ صحیح طور پر ترقی نہیں کر سکتیں جب تک ایک نئی خوبی اُن میں پیدا نہ ہو اور وہ خوبی وہی ہے جو تَكْسِبُ الْمَعْدُومَ کے الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔ہم دیکھتے ہیں آج دنیا ترقی کی طرف جا رہی ہے مگر اُس کی ترقی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ نئے علوم ظاہر ہور ہے اور نئی نئی ایجاد میں دنیا میں ہو رہی ہیں۔ہر نیا علم دنیا کو ایک قدم اور آگے بڑھاتا ہے اور ہر نئی ایجاد دنیا کے ذہنی اور فکری قومی کو اور زیادہ چلا دے دیتی ہے۔اگر نئے علوم ظاہر نہ ہوں اور علمی لحاظ سے دنیا کسی مقام پر آ کر رُک جائے ، اگر نئی ایجادیں نہ ہوں اور دنیا پرانی ایجادات تک ہی رُک جائے تو کبھی لوگوں کو ترقی حاصل نہ ہو اور کبھی اُن کے علمی اور دماغی قومی کونئی قوت اور روشنی حاصل نہ ہو۔پس