انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 90

انوار العلوم جلد ۱۷ ہے جو اعتراض کی صورت میں پیش کی جاتی ہے۔تاریخوں میں آتا ہے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے عرض کیا کہ اب کیا ہو گا دشمن تو سر پر آ گیا ہے اور رسول کریم صلی اللہ وسلم نے یہ فرمایا کہ لا تحزن إن الله معنا تو حضرت ابو بکر رو پڑے اور فرمانے لگے يَا رَسُولَ اللهِ ! مجھے اپنی جان کی فکر نہیں اگر میں مارا گیا تو میری تو کوئی حیثیت ہی نہیں محض ایک آدمی مارا جائے گا لیکن اگر خدانخواستہ آپ پر کوئی آنچ آئی تو دنیا تباہ ہو جائے گی۔پس اُن کو غمگین اپنی جان کی فکر نے نہیں کیا بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور آپ کے عشق نے انہیں غمگین کیا۔انہیں یہ غم نہیں تھا کہ کہیں دشمن اُن تک نہ آ پہنچے بلکہ یہ غم تھا کہ کہیں رسول کریم ﷺ پر کوئی آنچ نہ آ جائے۔یہ سوال کہ اُن کو خدا کا رسول سمجھتے ہوئے حضرت ابو بکر کے دل میں یہ خیال کس طرح آ گیا کہ کہیں دشمن سے آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچ جائے۔اسے محبت کرنے والا انسان ہی سمجھ سکتا ہے۔محبت اور عشق ایسی چیز ہے کہ کہتے ہیں عشق است و ہزار بد گمانی باوجود یہ یقین رکھنے کے کہ میرا محبوب اور میرا معشوق اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہے پھر بھی عاشق کا دل لرزتا ہے، کا نپتا ہے کہ کہیں اُس پر کوئی آنچ نہ آ جائے۔ماؤں کو دیکھ لو تھوڑی دیر بھی اُن کا بچہ گھر میں نہ آئے تو خیال کرنے لگ جاتی ہیں کہ کہیں کسی موٹر کے نیچے نہ آ گیا ہو، کبھی خیال کرتی ہیں کہ کسی کے کو ٹھے پر سے نہ گر گیا ہو، کبھی اُن کے دل میں یہ وہم پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے کہ کسی کنویں میں نہ گر گیا ہو بچہ موجود ہوتا ہے، خیریت سے ہوتا ہے، کھیل کو درہا ہوتا ہے مگر تھوڑی دیر کا وقفہ بھی وہ برداشت نہیں کر سکتیں اور سب باتیں اُن کے لئے واقعات کی صورت اختیار کر لیتی ہیں وہ دل میں بھی سمجھ رہی ہوتی ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا لیکن پھر بھی محبت کا جوش اُن سے یہ ساری باتیں منوا لیتا ہے۔اسی طرح حضرت ابو بکڑ جانتے تھے کہ خدائی وعدوں کے مطابق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی آنچ نہیں آ سکتی لیکن محبت اور عشق کی وجہ سے اُن کے دل میں یہ خیال پیدا ہو گیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دشمن آپہنچے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف پہنچ جائے۔