انوارالعلوم (جلد 17) — Page 68
۶۸ انوار العلوم جلد ۱۷ نقل کرتے ہیں تو با اخلاق کہلاتے ہیں۔گویا ایک ہی چیز خدا تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہو تو اُس کی صفت کہلاتی ہے اور بندوں کی طرف سے ظاہر ہو تو خلق کہلاتی ہے۔پھر خدا تعالیٰ کے اندر تو یہ صفات ازلی ابدی طور پر پائی جاتی ہیں اور ہمارے اندر کسی طور پر پائی جاتی ہیں۔بہر حال جب یہ صفات ہمارے اندر آتی ہیں تو اخلاق کہلانے لگ جاتی ہیں اور جب خدا تعالیٰ کی طرف انہیں منسوب کیا جاتا ہے تو وہ اسماء یا صفات کہلاتی ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے ہمارے اخلاق کی درستی کیلئے محمد رسول ﷺ کو ہمارے لئے کامل نمونہ بنایا ہے۔اگر ہم اپنے اپنے دائرہ میں چھوٹے محمد بن جاتے ہیں تو اس صورت میں ہم نجات کے مستحق ہوتے ہیں اور اسی صورت میں ہم با اخلاق کہلانے کے بھی مستحق ہوتے ہیں۔پس دنیا میں کامل انسان بنے کیلئے یا بالفاظ دیگر نجات یافتہ نے کیلئے ضروری ہے کہ ہم محمد رسول اللہ علیہ وسلم کے نقوش اپنے دلوں پر قائم کریں۔عیسائیت کی ایک بہت بڑی غلطی یہاں عیسائیت نے ایک بہت بڑی غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔عیسائیت کہتی ہے کہ شریعت لعنت ہے حالانکہ شریعت کس چیز کا نام ہے؟ شریعت نام ہے اس بات کا کہ خدا تعالیٰ نے اپنی جو تصویر پیدا کی ہے اُس کی ہم پوری طرح نقل کریں اور احکام کی مثال ایسی ہی ہے جیسے تصویر بنانے والے کو کہا جاتا ہے کہ فلاں جگہ پر یہ رنگ پھیرو اور فلاں جگہ پر وہ رنگ پھیرو تا کہ یہ تصویر فلاں تصویر کے مشابہہ ہو جائے۔اسی طرح اخلاق کی وہ تعلیم جو خدا تعالیٰ نے کبھی کسی صورت میں دی اور کبھی کسی صورت میں ، ایسی ہی تھی جیسے ڈرائنگ کی کا پیوں میں لڑکوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ یہاں فلاں رنگ پھیرو اور وہاں فلاں رنگ پھیرو۔پس شریعت اُن ہدایتوں کا نام ہے جن پر عمل کر کے ہم اپنے زمانہ کے نبی کی تصویر کھینچ سکتے ہیں۔چونکہ نبی کی تصویر وہ ہوتی ہے جو دنیا میں خدا تعالیٰ کی طرف سے پیش کی جاتی ہے اور اس لئے پیش کی جاتی ہے کہ لوگ اُس کی نقل کریں اس لئے جب ہم شریعت پر عمل کرتے ہیں تو گویا ہم خدا تعالیٰ کی تصویر اپنے آئینہ قلب پر کھینچ لیتے ہیں۔اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اشارہ فرمایا که قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْيِيكُمُ اللهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيم