انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 62

۶۲ انوار العلوم جلد ۱۷ تم لوگوں کو خدا تعالیٰ کے قرب کے مواقع بہم پہنچاؤ خود بھی نمازیں پڑھو اور دوسروں کو بھی نمازیں پڑھاؤ تا کہ تم پر خدا اور اُس کے رسول کا رنگ چڑھے وہاں اتوا الزكوة اس امر کو بھی مدنظر رکھو کہ اللہ تعالیٰ اُسی کو اپنا بنا تا ہے جو اُس کی مخلوق سے محبت کرتا ہے۔مخلوق کی خدمت سے خدا تعالیٰ کی خوشنودی کا حصول دنیا میں بہترین ذریعہ کسی کی محبت حاصل کرنے کا یہ ہوتا ہے کہ اُس کے کسی عزیز سے محبت کی جائے۔ریلوے سفر میں روزانہ یہ نظارہ نظر آتا ہے پاس بیٹھے ہوئے دوست کے بچہ کو ذرا پچکار دیں یا اُسے کھانے کیلئے کوئی چیز دے دیں تو تھوڑی دیر کے بعد ہی اس کا باپ اس سے محبت سے باتیں کرنے لگ جاتا ہے کہ گویا وہ اس کا بہت پرانا دوست ہے۔تو فرماتا ہے اتوا الزحوۃ اللہ تعالیٰ سے محبت کرنا چاہتے ہو تو اُس کا پائیدار ذریعہ یہ ہے کہ اُس کے بندوں کی خدمت کرو اور انہیں آرام پہنچانے کے لئے حتی المقدور اپنے تمام ذرائع عمل میں لاؤ۔جب تم ایسا کرو گے تو خدا کہے گا کہ چونکہ یہ میرے پیاروں کی خدمت کرتا ہے اس لئے اسے بھی میرے پیاروں میں داخل کر لیا جائے۔اس کی تشریح بعض احادیث سے اس طرح معلوم ہوتی ہے ( گوانجیل میں بھی اس کا ذکر آتا ہے ) کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بعض لوگوں سے کہے گا کہ دیکھو! میں بیمار تھا مگر تم لوگ میری عیادت کیلئے نہ آئے۔تب بندے کہیں گے اے ہمارے رب ! تو کس طرح بیمار ہوسکتا تھا تو تو ہر قسم کے نقائص سے منزہ ہے۔تیرا کام تو لوگوں کی بیماریوں کو دُور کرنا ہے تو خود کس طرح بیمار ہو سکتا تھا؟ اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جب میرے بندوں میں سے بعض لوگ بیمار تھے اور تم اُن کی عیادت کے لئے نہ گئے تو گویا میں ہی بیمار تھا مگر تم نے میری عیادت نہ کی۔پھر اللہ تعالیٰ اپنے اُن بندوں سے فرمائے گا کہ ایک دن میں سخت بھوکا تھا مگر تم نے مجھے کھانا نہ کھلایا۔وہی بندے پھر عرض کریں گے کہ اے خدا! تو تو بھوک اور پیاس سے پاک ہے یہ کس طرح ہوسکتا تھا کہ تجھے بھوک لگتی اور تو پیاس سے تکلیف اُٹھاتا۔تب اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ دنیا میں میرے بعض بندے ایسے تھے جو بھو کے اور پیاسے تھے جب تم نے اُن میں سے ایک ادنیٰ سے ادنی بندے کی بھوک اور پیاس کو دور کرنے کی بھی کوشش نہ کی تو گویا میری بھوک اور میری پیاس کو ہی دور کرنے کی