انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 57

انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۷ اسوه حسنه نجات دے دو۔ پس بغیر شفاعت کا مسئلہ ماننے کے انسانی نجات قطعی طور پر ناممکن ہے اسی صورت میں نجات کا امکان سمجھا جا سکتا ہے جب کہ دنیا میں جو لوگ نیک نیتی اور اخلاص سے کام کرنے والے ہیں اُن کی نیک نیتی اور اخلاص کو عمل کا درجہ دے دیا جائے اور سمجھ لیا جائے کہ اُن کی نیک نیتی اور اُن کا اخلاص ہی عمل کا قائمقام ہے۔ دنیا میں بھی یہی ہوتا ہے دو سپاہی لڑنے کے لئے جاتے ہیں ۔ اُن میں سے ایک آخر تک زندہ رہتا اور فتح پا کر واپس لوٹتا ہے اور دوسرے کو پہلے دن ہی گولی لگتی ہے اور وہ مر جاتا ہے۔ اب کیا پہلے کو ملک کا کم خیر خواہ سمجھا جاتا ہے اور دوسرے کو زیادہ خیر خواہ سمجھا جاتا ہے؟ جو پہلے دن ہی گولی لگنے سے مر گیا اُس نے کب کہا تھا کہ مجھے گولی مار دو اور دوسرا جو آخر تک زندہ رہا اُس نے کب کہا تھا کہ مجھے گولی نہ مارو۔ اسی طرح لوگ مختلف ماحول میں رہتے اور اُس ماحول کے زیر اثر نیکی میں کم و بیش ترقی کرتے ہیں ۔ کوئی شخص نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ پوری کوشش کرتا ہے کہ وہ نیکی میں ترقی کر جائے اور وہ رسول کریم کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نمونہ کے مطابق اپنے آپ کو بنانے کے لئے سارا زور صرف کر دیتا ہے لیکن بعض دفعہ موت اُسے روحانیت میں ترقی کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ بعض دفعہ گردو پیش کے حالات اُسے بڑھنے کا موقع نہیں دیتے اور وہ اُسی حالت میں مر جاتا اور اس اعلیٰ مقام کو حاصل نہیں کر سکتا جو ویسا ہی ایک دوسرا شخص حاصل کر لیتا ہے۔ اسی طرح بعض دفعہ خلقی کمزوریاں انسانی ترقی کی راہ میں حائل ہو جاتی ہیں ۔ ہر شخص کا دماغ ایک جیسا نہیں ہوتا ۔ ایک شخص کا حافظہ تیز ہوتا ہے اور قوت فکر اعلیٰ درجہ کی ہوتی ہے مگر دوسرے کا ذہن گند ہوتا ہے ۔ ایسی حالت میں جب یکساں کوشش اور جدوجہد کرنے کے باوجود ایک شخص میں کوتا ہی یا کمی پائی جائے گی تو یقیناً اللہ تعالیٰ اس کی خلقی کمزوری کو مد نظر رکھے گا اور قیامت کے اللہ تعالی مدنظر اور قم دن گا گو اسمیں مگر چونکہ اس دن فرمائے گا کہ گو اس میں کمی پائی جاتی ہے مگر چونکہ اُس نے اپنی طرف سے پوری جدوجہد کی اس لئے یہ بھی ویسا ہی ہے جیسے دوسرا شخص ۔ مثلاً ایک شخص کا حافظہ بہت اعلیٰ درجہ کا ہے وہ دو مہینے میں سارا قرآن حفظ کر لیتا ہے اور دوسرا شخص ایسا ہے جو دو مہینے میں ایک رکوع بھی پورے طور پر یاد نہیں کر سکتا ۔ اب فرض کرو دونوں کوشش کرتے ہیں اور اُن میں سے ایک تو حافظ بن جاتا ہے اور دوسرا حافظ نہیں بن سکتا تو بیشک قیامت کے دن اُن میں سے صرف ایک شخص حافظوں کی