انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 48

انوار العلوم جلد کا ۴۸ بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۳) روپیہ سالانہ آ جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں تو بعض اوقات ایسی حالت ہوتی تھی کہ اُس کا خیال کر کے رقت آجاتی ہے۔زلزلہ کے دنوں میں جب اعلان کیا گیا کہ عذاب آنے والا ہے تو باہر سے مہمان زیادہ آنے لگے اور کثرت سے لوگ باغ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے والدہ کو بلا یا اور کہا آج میرے پاس کچھ ہے نہیں کہیں سے کچھ قرض لے لیں۔یہ کہہ کر آپ نماز کیلئے گئے جب واپس آئے تو اندر جا کر دروازہ بند کر لیا اور پھر مسکراتے ہوئے باہر آئے اور والدہ سے فرمایا۔میں نے ابھی کہیں سے قرض لینے کیلئے کہا تھا مگر ایک غریب نے جس کے تن کے کپڑے بھی ثابت نہ تھے یہ پوٹلی مجھے دی ہے۔میں سمجھا اس میں دھیلے پیسے ہوں گے مگر جب اندر جا کر میں نے اسے کھولا تو اس میں سے دو سو سے زیادہ روپیہ نکلا ہے معلوم نہیں کس حالت میں وہ شخص لایا ہے۔کہاں وہ زمانہ اور کہاں یہ۔گو ہماری ضرورتیں بڑھ گئی ہیں اور مومن کا خرچ زیادہ اور آمد کم ہی رہتی ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کا جنون اپنے سر میں رکھتا ہے۔جو کچھ اس کے پاس آتا ہے اسے خدا کی راہ میں خرچ کر دیتا ہے۔ریزرو فنڈ اسی لئے رکھا گیا ہے کیونکہ روپیہ پاس ہو تو خرچ ہو جاتا ہے۔اپنی جماعت کے لحاظ سے یہ روپیہ دین کیلئے خرچ ہو جاتا ہے اور مولوی محمد علی صاحب کے لحاظ سے میری ذات پر خرچ ہوتا ہے مگر خرچ ضرور ہو جاتا ہے تو مومن کے پاس روپیہ جمع نہیں رہتا۔ہاں جب ضرورت پیش آئے تو خدا تعالیٰ ضرور دے دیتا ہے اور اس وقت جوایمان بڑھتا ہے وہ دنیا کے خزانوں سے کہاں بڑھ سکتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ پر توکل کرو۔اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو ورثہ دو اِس سے تمہارا نقصان نہ ہوگا۔جب تم سب کے سب اس پر عمل کرو گے تو تمہاری بیٹیاں اگر جائداد میں سے اپنا حصہ لے جائیں گی تو دوسروں کی بیٹیاں تمہارے ہاں لے بھی آئیں گی۔پس ورثہ دینے کے متعلق میں پھر تاکید کرتا ہوں۔ہمارا تمام سہا را خدا تعالیٰ پر ہے اور اُسی پر ہمیں بھروسہ ہے، اُس پر بدظنی نہ کرو کہ اگر اُس کے حکم پر عمل نہ کرو گے تو نقصان اُٹھاؤ گے۔(ماخوذ از رجسٹر فضل عمر فاؤنڈیشن ) ابوداؤد كتاب القضاء باب فى قضاء القاضي اذا اخطأ الوصیت صفحه ۲۱ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۱۹ ( مفهوماً)