انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 37

انوار العلوم جلد ۱۷ ۳۷ بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۳) تحریک جدید اور پیغامی تحریک جدید کے اس فنڈ کی کامیابی نے پیغامیوں میں ایک کسک پیدا کر دی ہے۔وہ کہتے ہیں قادیان والے یونہی پانچ ہزار بنتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس رؤیا کے مصداق تو ہم ہیں وہ کہتے ہیں کوئی امریکی آیا تھا اُس نے لکھا کہ ۵ ہزار پیغامی ہیں اس لئے ہم ہی اس رویا کے مصداق ہیں۔حالانکہ اس خواب میں یہ نہیں کہ جنہیں کوئی پانچ ہزار کہہ دے وہ اس کے مصداق ہیں۔پیغامیوں کی تعداد ہم نے پیغامیوں کے متعلق اندازہ لگایا تھا پیچھے مردم شماری کرائی گئی تھی سارا زور لگانے پر تین ہزار بنے تھے لیکن ہم تو کہتے ہیں کہ تحریک جدید کے رجسٹروں میں چندہ دینے والوں کے نام لکھے ہوئے دیکھ لو وہ پانچ ہزار ہیں مگر وہ کچھ نہیں بتاتے۔پھر ہم پوچھتے ہیں پانچ ہزار پیغامی چندہ دینے والے ہیں یا ان میں وہ بھی شامل ہیں جو پوتڑوں میں پاخانہ پھرتے ہیں۔اگر وہ اس تعداد میں عورتیں اور بچے بھی شامل کرتے ہیں تو وہ سپاہی کس طرح کہلا سکتے ہیں۔پس جب تک وہ پانچ ہزار چندہ دینے والے ثابت نہ کریں اُس وقت تک یہ خواب اُن پر نہیں لگ سکتی۔مگر ہم چندہ دینے والے پانچ ہزار پیش کرتے ہیں۔پھر پیغامی کہتے ہیں دس لاکھ کی تعداد میں سے پانچ ہزار نے چندہ دیا تو معلوم ہوا کہ ایک قلیل حصہ نے اس تحریک میں حصہ لیا اور یہ فخر کی بات نہیں بلکہ شرم کا مقام ہے مگر انہیں اتنا بھی معلوم نہیں کہ ایک خاندان کے سارے کے سارے افراد چندہ نہیں دیا کرتے۔خاندان میں بعض بچے چھوٹے ہوتے ہیں اگر دس لاکھ کی تعداد ہو تو چندہ دینے والے دولاکھ رہ گئے۔پھر یہ تحریک جدید کا چندہ ہے دوسرا نہیں جس کا ادا کرنا ہر ایک کا فرض ہے۔اس میں یہ شرط ہے کہ کم از کم پانچ رو پیر تک چندہ دے اور دوسرا چندہ بھی ساتھ دے۔ہندوستان کی روزانہ فی کس آمدنی ہمارا ملک بہت غریب ہے گاندھی جی نے اعلان کیا تھا کہ یہاں اوسط آمدنی ڈیڑھ آنہ روزانہ ہے اور دو روپے تیرہ آنے ماہوار فی کس آمدنی بنتی ہے۔اگر کوئی پانچ آدمیوں